اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دھرنوں اور احتجاج کے کلچر کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، روڈ بلاکس اور دھرنوں کا کوئی مستقل حل ہونا چاہیے، چند سو یا چند ہزار افراد کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پارلیمان اس حوالے قانون بنائے، حکومت عمل کرے گی، انتخابی اصلاحات کا قانون …
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا ایوان بالا میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دھرنوں اور احتجاج کے کلچر کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، روڈ بلاکس اور دھرنوں کا کوئی مستقل حل ہونا چاہیے، چند سو یا چند ہزار افراد کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پارلیمان اس حوالے قانون بنائے، حکومت عمل کرے گی، انتخابی اصلاحات کا قانون تمام پارلیمانی جماعتوں نے مل کر بنایا لیکن دھرنے کے معاملے پر حکومت کا کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ بدھ کو ایوان بالا میں فیض آباد دھرنے کے حوالے سے بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دھرنے کے خلاف ایکشن کی وجہ عدالتی حکم تھا اور حکومت کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اس دھرنے میں مسلح افراد موجود ہیں لیکن عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ بغیر اسلحہ کے اہلکار دھرنے کو منتشر کرنے کے لئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے دوران 27 مقدمات درج کئے گئے، 418 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، چار گاڑیاں اور 13 موٹرسائیکل اور ایک پولیس وین چھینی یا نذر آتش کی گئیں جبکہ 215 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 38 سویلین، ایک رینجر اہلکار اور 100 سے زائد پولیس اور ایف سی اہلکار شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کانسٹیبل اسرار کی آنکھ ضائع ہوئی ہے، حکومت نے اسے پانچ لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا ہے، ڈاکٹروں نے اگر سفارش کی تو اسے سرکاری خرچ پر بیرون ملک بھی علاج کے لئے بھجوایا جائے گا۔








