سندھ حکومت کا 2029 تک 120 سے زائد اینٹوں کے بھٹوں کو جدید بنانے کے لیے 35 لاکھ ڈالر کا منصوبہ

سندھ حکومت نے 2029 تک 120 سے زائد روایتی اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے 35 لاکھ ڈالر کا منصوبہ تجویز کیا ہے، جس کا مقصد نقصان دہ باریک ذرات کے اخراج میں کمی لانا اور ماحول دوست پیداواری عمل میں صنعتی اور زرعی فضلے کے استعمال کو فروغ دینا ہے

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):سندھ حکومت نے 2029 تک 120 سے زائد روایتی اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے 35 لاکھ ڈالر کا منصوبہ تجویز کیا ہے، جس کا مقصد نقصان دہ باریک ذرات کے اخراج میں کمی لانا اور ماحول دوست پیداواری عمل میں صنعتی اور زرعی فضلے کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق ’’جدید کاری اور سرکلر اکانومی کے انضمام کے ذریعے سندھ میں اینٹوں کے بھٹوں سے کاربن کے اخراج میں کمی‘‘ کے عنوان سے مجوزہ منصوبے کے تحت روایتی بھٹوں کو جدید بنایا جائے گا، مالکان اور کارکنوں کو تربیت دی جائے گی اور ماحولیاتی نگرانی اور پیشہ ورانہ تحفظ کو بہتر بنانے کے اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔منصوبے کے تحت پی ایم 2.5 ذرات کے اخراج میں تقریباً 40 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس سے 3 ہزار افراد کو براہ راست اور مزید 20 ہزار افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔منصوبے کا ایک اور مقصد سرکلر اکانومی کے اقدامات کے ذریعے سالانہ 20 ہزار ٹن فضلے کو متبادل استعمال میں لانا اور کاربن کی نگرانی، رپورٹنگ، تصدیق اور کاربن کریڈٹس کے لیے ایک پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔مجوزہ سرگرمیوں میں بھٹوں کی جدید خطوط پر تبدیلی یا ان کی جگہ نئے بھٹوں کی تنصیب، ماحول دوست پیداواری طریقوں کی تربیت، پیشہ ورانہ تحفظ کی تربیت، ڈیجیٹل نگرانی، رپورٹنگ اور تصدیق کا نظام، کاربن کریڈٹس کو یکجا کرنا اور کمپریسڈ اسٹیبلائزڈ ارتھ بلاکس (سی ایس ای بیز) کی تیاری میں فلائی ایش اور زرعی فضلے کا استعمال شامل ہے۔دستاویز کے مطابق مجوزہ کاربن نگرانی، رپورٹنگ، تصدیق اور کریڈٹنگ پلیٹ فارم منصوبے سے وابستہ ماحولیاتی نتائج کی پیمائش اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کی کوششوں کا حصہ ہوگا۔سندھ کے ای سی سی اینڈ سی ڈی ڈی کو منصوبے کا مرکزی ادارہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جی آئی زیڈ اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کو تکنیکی شراکت داروں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔منصوبے پر عمل درآمد میں پاکستان برک کلن ایسوسی ایشن اور سیمنٹ اور فلائی ایش فراہم کرنے والے اداروں کی معاونت بھی متوقع ہے۔سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، محکمہ محنت، جامعات اور تحقیقی اداروں کو بھی معاون اداروں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔دستاویز میں بھٹوں کی تبدیلی کا عمل مکمل کرنے کے لیے 2029 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔منصوبے کی نگرانی اور جائزے کی سرگرمیوں میں ابتدائی صورتحال کا جائزہ، درمیانی مدت کا جائزہ، اختتامی جائزہ، تیسرے فریق کے آڈٹ اور مسلسل ڈیجیٹل نگرانی، رپورٹنگ اور تصدیق شامل ہوں گی۔منصوبے کا مجوزہ بجٹ 35 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے عالمی بینک کے مالی سال 2026 سے مالی سال 2035 تک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت زیر کارروائی تجاویز کا حصہ ہے۔