اسلام آباد کو 31 دسمبر 2026 تک پلاسٹک فری شہر بنا دیا جائے گا، طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو 31 دسمبر 2026 تک پلاسٹک فری شہر بنا دیا جائے گاجس کے لیے پلاسٹک بیگز اور دیگر پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کے خاتمے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مقررہ مدت تک اسلام آباد …

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو 31 دسمبر 2026 تک پلاسٹک فری شہر بنا دیا جائے گاجس کے لیے پلاسٹک بیگز اور دیگر پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کے خاتمے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مقررہ مدت تک اسلام آباد کو پلاسٹک فری بنا دیا جائے گا۔ انہوں نےتاجروں، دکانداروں، صنعت کاروں، خوانچہ فروشوں اور سڑک کنارے کھانے پینے کے مراکز کے مالکان پر زور دیا کہ وہ قانون پر عمل درآمد کے لیے حکومت سے تعاون کریں۔طلال چوہدری نے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال پر پابندی سے متعلق قانون 2023 میں بنایا گیا تھاجس پر اب مکمل طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اور کاروباری برادری کے نمائندوں کے ساتھ متبادل اشیا کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے تفصیلی اجلاس بھی کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک مٹی، پانی اور سیوریج کے نظام میں شامل ہونے یا جلائے جانے کی صورت میں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے اس لیے آنے والی نسلوں کے لیے ماحول کا تحفظ ضروری ہے۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ 31 دسمبر کے بعد اسلام آباد میں کاروباری مقاصد کے لیے پلاسٹک بیگز اور دیگر ممنوعہ پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی تاہم طبی آلات، ادویات اور ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سخت کارروائی کے بجائے تاجروں کو رضاکارانہ طور پر قانون پر عمل درآمد کی ترغیب دینا چاہتی ہے، تاہم دودھ، دہی اور گوشت فروخت کرنے والے بعض کاروباروں کو متبادل اشیا کے انتظام کے لیے چند اضافی دن دیے گئے ہیں۔

طلال چوہدری نےبتایا کہ اسلام آباد میں سرکاری وزارتوں نے گزشتہ کئی ماہ سے پلاسٹک بیگز اور اس نوعیت کی دیگر مصنوعات کا استعمال ترک کر رکھا ہے جبکہ اب اس مہم کا دائرہ تمام مارکیٹوں، سیکٹرز اور تجارتی مراکز تک بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ غیر معیاری پیٹرولیم مصنوعات اور اسمگل شدہ پلاسٹک شاپنگ بیگز بھی ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ ماحول کے لیے نقصان دہ ضبط شدہ مصنوعات نیلام کرنے کے بجائے تلف کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ (ای پی اے) بھی اس مہم میں تعاون کر رہا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد میں گاڑیوں کے اخراج کی جانچ لازمی ہے اور اب تک تقریباً 60 فیصد گاڑیوں کی ٹیسٹنگ مکمل ہو چکی ہے،حکومت تمام گاڑیوں کے لیے اس شرط پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔انہوں نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے بھی اسلام آباد کےتمام 147 پیٹرول پمپس پر معیاری ایندھن کی فروخت یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ غیر معیاری ایندھن فروخت کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس میں انہیں بند کرنے اور لیز منسوخ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اگر لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو تو اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے دیگر صوبوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے یکساں قوانین اپنائیں اور ان پر ملک بھر میں یکساں عمل درآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ صوبائی حدود تک محدود نہیں رہتےجبکہ قوانین میں فرق کےباعث ایک صوبے میں تیار ہونے والی مصنوعات دوسرے صوبوں میں استعمال ہوتی ہیں، جو آلودگی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ پنجاب نے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جن کے اثرات بتدریج سامنے آئیں گے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد کے وسیع سبز علاقوں کے باعث شہر کا اپنا اسموگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہےتاہم شاہراہوں، موٹرویز، شہر میں آنے اور جانے والی ٹریفک اور ملحقہ علاقوں سے آنے والی اسموگ کے باعث وفاقی دارالحکومت بھی متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

 

مزید خبریں