حکومت پنجاب شدت پسندی کے خاتمے و پرامن معاشرے کے قیام کیلئے کوشاں ہے، خواجہ سلمان رفیق

صوبائی وزیر وچیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محکمہ داخلہ پنجاب میں سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے بورڈ آف گورنرز کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔

لاہور۔10اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر وچیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محکمہ داخلہ پنجاب میں سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے بورڈ آف گورنرز کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، چیف کوآرڈینیشن آفیسر غلام صغیر شاہد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر عائشہ رشید، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل عبدالرئوف، ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، ایڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن، ڈپٹی سیکرٹری فنانس، کنسلٹنٹس سید طاہر رضا بخاری اور سہیل رضا سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ شعبہ نفسیات کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے چوتھے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی جبکہ متعلقہ حکام نے عملدرآمد رپورٹ پیش کی۔ بورڈ نے سینٹر آف ایکسیلینس کیلئے فنڈ کے قیام اور 500 ملین روپے کی سیڈ منی کی منظوری دی۔ اجلاس میں سینٹر کے زیر اہتمام منعقدہ پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کی 51 جامعات سے 154 جدید اور تخلیقی منصوبے موصول ہوئے جن میں سے ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے شفاف جانچ پڑتال کے بعد 50 بہترین منصوبے شارٹ لسٹ کیے اور طلبہ کو کمیٹی کے سامنے اپنے منصوبے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ مقابلے میں پہلی پوزیشن یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی طالبات نے ڈی این اے ٹیسٹ کی لاگت میں کمی اور معیار میں بہتری کے منصوبے پر حاصل کی۔

دوسری پوزیشن فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات نے کینسر کی تشخیص اور علاج کی لاگت کم کرنے کے منصوبے پر حاصل کی جبکہ تیسری پوزیشن سپیریئر یونیورسٹی کے طالب علم نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بچوں کے موبائل فون پر قابلِ اعتراض مواد کو کنٹرول کرنے کے منصوبے پر حاصل کی۔ تینوں پوزیشن ہولڈرز طلبہ نے بورڈ آف گورنرز کے سامنے بھی اپنے منصوبے پیش کیے جنہیں خوب سراہا گیا۔ پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بالترتیب 10 لاکھ، ساڑھے 7 لاکھ اور 5 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ بورڈ نے نوجوانوں میں پیغامِ امن کے فروغ کیلئے محکمہ انفارمیشن اینڈ کلچر کے توسط سے آگاہی پروگرامز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت نوجوانوں میں تقاریر،تھیٹر ڈراموں، مضمون نویسی اور پوسٹر سازی کے مقابلے منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔اس موقع پر صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت پنجاب شدت پسندی کے خاتمے اور پرامن معاشرے کے قیام کیلئے کوشاں ہے، وزیراعلی پنجاب کی سربراہی میں ہم سب نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے محنت کر رہے ہیں، سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی معاشرے کی فلاح اور شدت پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن کمپیٹیشن 2026 نوجوانوں میں خوداعتمادی کے فروغ اور نئے کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ معاشرے میں امن، رواداری اور برداشت کے فروغ میں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی، محکمہ صحت اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ روشن، پرامن اور خوشحال پاکستان کی تشکیل میں ایسے باصلاحیت نوجوان ہمارا ہراول دستہ ہیں۔

مزید خبریں