کم عمری کی شادی کے خاتمے کیلئے موثر قانون سازی اور قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے،گورنر سندھ

گورنر سندھ محمد نہال ہاشمی نے لڑکیوں کو کم عمری کی شادی سے بچانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری کی شادی ان کی تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اتوار کویہاں گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان …

کراچی۔ 11 اکتوبر (اے پی پی):گورنر سندھ محمد نہال ہاشمی نے لڑکیوں کو کم عمری کی شادی سے بچانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری کی شادی ان کی تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اتوار کویہاں گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کیلئے موثر قانون سازی اور قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ غربت اور فرسودہ سماجی روایات لڑکیوں کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔گورنر نے کہا کہ بیٹیاں اللہ تعالی کی نعمت اور روشن مستقبل کی ضامن ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر لڑکی کو معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، تحفظ اورآگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔گورنر سندھ نے لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا اور معاشرے سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بیٹیوں کو وہ تمام مواقع اور معاونت میسر ہو جس کی بدولت وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔

مزید خبریں