لمز میں بجلی شعبے میں استعمال ہونیوالے آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے روڈ میپ پر قومی مشاورتی ورکشاپ
لمز میں بجلی شعبے میں استعمال ہونیوالے آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے روڈ میپ پر قومی مشاورتی ورکشاپ

مزید خبریں
لاہور۔11اکتوبر (اے پی پی):لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (LEI) نے لمز میں بجلی کے شعبے میں استعمال ہونے والے آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے روڈ میپ پر دوسری قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں وزارتِ توانائی، واپڈا، نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی)، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی)، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)،متعلقہ ریگولیٹری اداروں، بجلی کے آلات بنانے والی کمپنیوں، صنعتی تنظیموں، پالیسی سازوں اور تعلیمی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد پاکستان میں بجلی کے آلات بنانے کی مقامی صنعت کو مضبوط بنانا،درآمدات پر انحصار کم کرنا اور اس حوالے سے ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانا تھا۔ترجمان کے مطابق مئی2025 میں منعقد ہونے والی پہلی ورکشاپ کے بعد اس اقدام میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔
ابتدائی جائزوں سے آگے بڑھتے ہوئے اب مختلف مصنوعات کی طلب اور رسد کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ بجلی کے شعبے کی ضروریات کو پاکستان میں موجود پیداواری صلاحیت کے مطابق بنایا جا سکے۔وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے مشیر فیضان علی شاہ نے لمز کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ بجلی کے آلات میں صرف 30 فیصد مقامی اجزا کا استعمال، مقامی صنعت کو فروغ دینے کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2027-2023 کے تحت انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو 2024 تک حکومت کو بجلی کے آلات کی مقامی سطح پر پیداوار کا باقاعدہ منصوبہ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جو پوری نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) اب تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ساتھ اس منصوبے کی تیاری کو ترجیح دے گی۔لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر آف پریکٹس اور سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے کہا کہ مقامی صنعت کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ LEI نے بجلی کے آلات خریدنے والے اداروں، مقامی صنعت کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جہاں وہ صنعت کو درپیش مسائل کا مل کر حل تلاش کر سکتے ہیں، درآمدی مصنوعات کے متبادل کے طور پر مقامی پیداوار کو فروغ دے اور پاکستان کی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں، اس کا مقصد بجلی کے آلات کی ایسی صنعت قائم کرنا ہے جو عالمی منڈی میں بھی مقابلہ کر سکے۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام لیڈ انجینئر فیصل جاوید مغل نے بجلی کے آلات کی مقامی سطح پر پیداوار کے ممکنہ مواقع، آئندہ دس سال میں ان کی متوقع طلب اور پاکستان میں ان آلات کی تیاری کے لیے موجود صنعتی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔ورکشاپ میں تین مختلف موضوعات پر بیک وقت مشاورتی نشستیں منعقد ہوئیں، ان میں قابلِ تجدید توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے آلات اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کے اجزا، بجلی کی ترسیلی لائنیں اور متعلقہ آلات، جبکہ گرڈ اسٹیشنز اور ان سے متعلقہ آلات شامل تھے۔
ورکشاپ میںمقامی صنعت کاروں نے ترجیحی مصنوعات کی تیاری میں دلچسپی ظاہر کی اور اپنے منصوبے پیش کیے، جبکہ بجلی کے آلات خریدنے والے اداروں نے اپنی متوقع ضروریات سے آگاہ کیا۔شرکاء نے مقامی سطح پر پیداوار شروع کرنے کی تیاری، اس عمل میں حائل رکاوٹوں، ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے شراکت داری اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے ضروری پالیسی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔بجلی کے شعبے کے اہم اداروں پر مشتمل اعلی سطحی پینل میں وزارتِ توانائی کے انرجی ایڈوائزر فیضان علی شاہ، نیشنل گرڈ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین ملک، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے طفیل شیخ، چیئرمین گیپکو اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کے الیکٹرک مجاہد پرویز چھٹہ اور واپڈا کے ممبر پاور محمد عرفان شامل تھے۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے سابق چیئرمین الماس حیدر نے زور دیا کہ متعلقہ ادارے مل کر کام کریں تاکہ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ابتدائی نتائج کو عملی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے شواہد اور تحقیق کی بنیاد پر ایک قابلِ عمل پالیسی فریم ورک اور روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔لمز کے ریکٹر شاہد حسین اور پرووسٹ ڈاکٹر طارق جدون نے تحقیق کی بنیاد پر پالیسی سازی، جدت اور صنعتی ترقی کے فروغ میں یونیورسٹی کے کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ورکشاپ کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آلات کی خریداری کے طریقہ کار کو مقامی پیداوار کے قومی اہداف سے ہم آہنگ کیا جائے، ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے شراکت داری کو فروغ اور درآمدات کے متبادل کے طور پر مقامی تیاری کے لیے ایک واضح روڈ میپ آگے بڑھایا جائے۔مشاورتی عمل کے دوران مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت کا بجلی کے شعبے کی ضروریات سے موازنہ کیا گیا،
جس کی بنیاد پر مختلف مصنوعات کی مرحلہ وار مقامی تیاری کے لیے ایک ابتدائی منصوبہ تیار کرنے میں مدد ملی۔ علاوہ ازیں صنعت کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی جمع کی گئیں۔ورکشاپ سے حاصل ہونے والی تجاویز متعلقہ بجلی کے اداروں کو پاکستان پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پالیسی (PSIP) کو مزید بہتر اور حتمی شکل دینے میں مدد فراہم کریں گی، اس پالیسی میں مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے پالیسی فریم ورک اور عملی روڈ میپ شامل ہوگا۔







