وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کی بھرپور حمایت کرے گی، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے پیر کے روز اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کی مکمل حمایت کرے گی اور صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔گورنر ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق وہ یہاں گورنر ہاؤس میں منعقدہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر …

پشاور۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے پیر کے روز اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کی مکمل حمایت کرے گی اور صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔گورنر ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق وہ یہاں گورنر ہاؤس میں منعقدہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس کی صدارت انہوں نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ مشترکہ طور پر کی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں دہشت گردی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھانے کی خاطر ہر ممکن تعاون کرے گی، جس میں ضروری وسائل اور سازوسامان کی فراہمی بھی شامل ہے۔انہوں نے مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران عظیم قربانیاں دینے پر خیبر پختونخوا پولیس کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس فورس نے سنگین سکیورٹی چیلنجز کے باوجود مثالی جرات اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔سید محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا حصول اس وقت زیادہ مؤثر طریقے سے ممکن ہے جب صوبائی حکومت ٹھوس، مربوط اور مسلسل کوششوں کے ذریعے اس لعنت کا مقابلہ کرنے میں قیادت کرے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کمزور اور غیر مؤثر حکمت عملی کے باعث گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی ہے؛ انہوں نے زور دیا کہ امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتیں اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ہی صفحے پر ہیں اور صوبے میں دیرپا امن کی بحالی کے لیے مل کر کام کریں گی۔انہوں نے مشاورتی کونسل کے ارکان سمیت تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہیں اور جرات کا مظاہرہ کریں، اور کہا کہ "ہم درست راستے پر گامزن ہیں اور کامیاب ہوں گے۔سید محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے امن کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور آئین کے تحت گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے کسی بھی حصے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں اور انہیں لانگ مارچ اور احتجاج کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس (سخت ترین رویہ) اپنایا جائے گا اور خیبر پختونخوا کے عوام جلد ہی اس لعنت کے خلاف واضح اور نمایاں اقدامات دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر متحد ہیں اور اس لعنت کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے مربوط اقدامات کریں گی۔گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ان کا موثر اور شفاف استعمال روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور صوبے میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے گا اور انہیں سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے جدید ہتھیار، آلات اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس میں کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا فخرِ عالم عرفان، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید، مشاورتی کونسلوں کے اراکین اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

مزید خبریں