نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ کا سیرت انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان، سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات عالمی امن، انصاف اور اقوام کے مابین پل تعمیر کرنے کیلئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں ، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سیرت انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیرت النبیﷺ نے انصاف، باہمی احترام اور مکالمے کا درس دیا ہے، سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات عالمی امن، انصاف اور اقوام کے مابین پل تعمیر کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں ، مذہبی اور سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے ، …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سیرت انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیرت النبیﷺ نے انصاف، باہمی احترام اور مکالمے کا درس دیا ہے، سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات عالمی امن، انصاف اور اقوام کے مابین پل تعمیر کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں ، مذہبی اور سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے ، پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ، آج پاکستان کو امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں قومی رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے زیراہتمام تیسرے بین الاقوامی سیرت فیسٹیول کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نائب وزیراعظم نے نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم، ارکان، ذمہ داران اور منتظمین کو اپنی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا ذکر دلوں کے لیے راحت ہے اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے اور معاشرے میں پھیلانے کے لیے فیسٹیول میں علمی نشستوں اور بین الاقوامی کانفرنس کے علاوہ کتاب میلہ، یوتھ کنونشن، نعتیہ مشاعرہ، محفلِ نعت اور خطاطی کی نمائش سمیت متعدد سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ ہماری دنیا و آخرت کو سنوارنے کا واحد راستہ ہے اور بحیثیت امتی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائیں ۔

نائب وزیراعظم نے بین الاقوامی کانفرنس کے موضوع ’’اقوام کے درمیان پلوں کی تعمیر:سیرت النبیﷺ کی روشنی میں‘‘ کو بامعنی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اتھارٹی کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کو موضوع کے بروقت انتخاب پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت مختلف تنازعات اور کشیدگی کا شکار ہے اور مختلف خطوں میں تصادم بڑھ رہا ہے، مشرق وسطیٰ، سوڈان، صومالیہ، یمن، لیبیا، روس اور یوکرین کی جنگ اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی اس صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اضطراب بالخصوص غزہ اور مشرقی یروشلم کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں جموں و کشمیر کا تنازع کئی دہائیوں سے حل طلب ہے اور روس و یوکرین کی جنگ بھی جاری ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کی موجودگی کے باوجود عالمی برادری تنازعات اور جنگوں سے نجات حاصل نہیں کر سکی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی امن اور ترقی کے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ، عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت عالمی ادارے قائم کیے گئے لیکن آج بھی دنیا امن کی متلاشی ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ عالمی نظام میں موجود خلا سے ظالم فائدہ اٹھاتے ہیں اور غزہ سے مقبوضہ کشمیر تک انسانی جان اور آبرو کا احترام نظرانداز کیا جا رہا ہے، یہ صورت حال عالمی نظام میں انصاف اور اصولوں کے یکساں اطلاق کی کمی کو نمایاں کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اخلاقی اقدار ختم ہو جائیں تو بستیاں جنگل بن جاتی ہیں اور انسان و حیوان کا فرق مٹ جاتا ہے،ہمارا ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات وہ اخلاقی اقدار عطا کرتی ہیں جو قوموں کے تعلقات کو عزت، احترام اور انصاف کے اصولوں پر استوار کر سکتی ہیں اور دنیا سے ظلم و ناانصافی کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہیں۔

سیرت النبی ﷺ قوموں کے درمیان پل تعمیر کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ کو بھی اخلاقی اقدار کا پابند بنایا، مذہبی ہم آہنگی کی تعلیم دی اور خارجہ پالیسی کے ایسے اصول عطا فرمائے جو عالمی امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ خطبۂ حجۃ الوداع ایک ایسا چارٹر ہے جس میں انسانوں کے درمیان نسل کی بنیاد پر امتیاز کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ مسلمان محققین سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں انسانیت کی رہنمائی کریں اور دنیا کو بتائیں کہ ایک ایسا عالمی نظام کیسے قائم کیا جا سکتا ہے جو مضبوط اخلاقی بنیادوں پر استوار ہو اور جس میں طاقت کے بجائے انصاف کی حکمرانی ہو، اس مقصد کے لیے سیرت پاک ﷺ پر اطلاقی تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نیشنل رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اپنے تحقیقی منصوبوں میں اس ضرورت کو مدنظر رکھا ہے اور فیسٹیول کے موقع پر منعقد ہونے والی کانفرنس کے لیے موضوع کا انتخاب بھی اس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں پیش کیے جانے والے تحقیقی مقالات کی اشاعت سفارت کاری کے لیے نئی اخلاقی بنیادیں فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان پل تعمیر کرنے کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے ،پاکستان نے 47 سال بعد متحارب ممالک کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کے لیے ایک میز پر بٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جس پاکستان کو چند سال قبل دہشت گردی کے حوالے سے جانا جاتا تھا، آج الحمدللہ اسے امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے انسانی جانوں اور املاک کے ضیاع کو روکنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، جس کی دنیا بھر میں پذیرائی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ان کی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان آئے، جہاں انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا اور ان کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ پاکستان کو اب امن کے قیام میں کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ ناروے میں حال ہی میں منعقدہ ایک فورم میں مغربی ممالک کے مقررین نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کو اس خطے میں لازماً ایک نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا فرض بھی ہے کیونکہ اس وقت خطے میں جاری کشیدگی سے متاثر ہونے والے ممالک میں بڑی تعداد اسلامی ممالک کی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں باہمی کشیدگی اور حملوں سے بھی مسلم امہ کے مختلف ارکان متاثر ہو رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کا حوالہ دیا کہ امت ایک جسم کی مانند ہے اور جسم کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں بھی امن کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ سیرت پاک ﷺ سے یہ سبق ملتا ہے کہ امن کے لیے انصاف، باہمی احترام اور مکالمہ ضروری ہیں۔ جنگ اور تصادم کے بجائے بات چیت کو ترجیح دی جانی چاہیے تاہم سیرت النبی ﷺ کا پیغام یہ بھی ہے کہ جارحیت کا سامنا ہونے پر دفاع کے لیے تیار رہا جائے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان امن کے لیے عالمی برادری کو ایک میز پر جمع کر سکتا ہے تو اپنے دفاع میں جارح کے غرور کو خاک میں ملانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے معرکہ حق کو اس کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2025ء میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اپنے فضل و کرم سے کامیابی عطا کی، جسے دنیا نے تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ سے رہنمائی لیتے ہوئے پاکستان نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور مخالف کی طرح شہریوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ سول و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے فیصلے کیے اور فضائی کارروائیوں کے دوران پاکستان کی فضائی حدود کے تحفظ اور اہداف کے انتخاب کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے ہدایت کی تھی کہ اس وقت تک حملہ نہ کیا جائے جب تک مخالف طیارہ پاکستانی فضائی حدود عبور نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے باوجود پاکستانی فضائیہ کے جوانوں نے کامیابی حاصل کی، اگر یہ پابندیاں نہ ہوتیں تو ممکنہ طور پر مخالف کے مزید لڑاکا طیارے گرائے جا سکتے تھے۔ انہوں نے اس فیصلے کو نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق قرار دیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد جب مخالف نے زمینی سطح سے زمینی اہداف کے خلاف جارحیت کی اور اگلے 72 گھنٹوں کے دوران تقریباً 80 ڈرونز پاکستان کی فضائی حدود میں گردش کرتے رہے تو 9 مئی کی رات سول و عسکری قیادت نے فیصلہ کیا کہ فضائی کارروائیوں کے بعد زمینی سطح پر بھی جواب دینا ہوگا تاکہ قوم اور دنیا کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان کو کمزور نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ابتدا میں صبر کا مظاہرہ کیا، جبکہ مخالف نے اپنی کارروائیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستان پر الزامات عائد کیے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے وزارت خارجہ کو فعال رکھا اور دنیا کے مختلف دارالحکومتوں سے مسلسل رابطے میں رہ کر حقائق سے آگاہ کیا، پاکستان نے واضح کیا تھا کہ اپنی کارروائیوں کو چھپایا نہیں جائے گا بلکہ ہر حملے اور جوابی کارروائی کی تفصیلات دنیا کے سامنے رکھی جائیں گی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں کوئی ایسا حملہ نہیں کیا جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہو، بلکہ کارروائیاں فوجی تنصیبات کے خلاف کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور یہ واضح کیا کہ اگر اس کے خلاف ایسی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام کے درمیان پل تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا اپنے داخلی معاملات کی اصلاح کے لیے سیرت پاک ﷺ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی مذہب کے نام پر بھی سامنے آتی ہے اور سیاست میں بھی، اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف کے آداب ہیں، مذہبی اور سیاسی اختلافات کو مکالمے اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان 2012ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ایک ووٹ کی برتری سے منتخب ہوا تھا جبکہ 2024ء میں اگلی دو سالہ مدت کے لیے انتخاب میں پاکستان نے 182 ووٹ حاصل کیے جبکہ اس کے مقابلے میں پانچ ووٹ آئے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری 2025ء سے 31 دسمبر 2026ء تک پاکستان سلامتی کونسل کا رکن ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان نے ’’کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کا پرامن حل‘‘ کو موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام، نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور قرآن حکیم امن کا پیغام دیتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کا موقع دیا، 12 سال بعد اس موضوع پر پیش کی جانے والی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا اور سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے اس کی حمایت کی۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے سیرت انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس فنڈ کے لیے ابتدائی طور پر 10 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ حکومت سیرت النبی ﷺ کے پیغام کو عام کرنے اور سیرت انسائیکلوپیڈیا جیسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مذہب اور سیاست کے نام پر انتہا پسندی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اختلافِ رائے آداب کے ساتھ ہونا چاہیے اور مختلف آرا کو کھلے ذہن سے سننا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے کہ دوسرا فریق ہماری سوچ سے بہتر رائے پیش کرے۔

مذہبی اور سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیرت النبی ﷺ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ نئی نسل میں سیرت پاک ﷺ سے ماخوذ اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دینے اور انہی اقدار کی بنیاد پر تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اسے ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اتھارٹی نے اس شعبے میں قابل قدر کام کیا ہے۔ چیئرمین خورشید احمد ندیم کی جانب سے پیش کی گئی تحقیقی کاوشوں اور شائع ہونے والی کتابوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتھارٹی نے اپنے قیام کے تقریباً تین سے ساڑھے تین سال کے مختصر عرصے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین اور ان کے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ سیرت سے ماخوذ اقدار پر مبنی ایک عملی تعلیمی ماڈل تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اتھارٹی کی قیادت اور اس کی ٹیم کی کاوشوں سے پاکستان کے معاشرے کی اصلاح کے لیے باہمی احترام اور محبت پر مبنی متبادل بیانیے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے اس مقصد کے لیے اتھارٹی کے قیام کا قانون بنایا ہے اور ادارہ اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کے لیے موزوں ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن حکیم ایک جامع ضابطۂ حیات ہے جو قیامت تک کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس پر تحقیق کے ذریعے اطلاقی تحقیق کے میدان میں نئی جہتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ پاکستان کے معاشرے کی اصلاح کے لیے باہمی احترام اور محبت پر مبنی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں، جبکہ قوم کو ایسے بیانیے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور وزیراعظم پاکستان اس کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔

اسحاق ڈار نے سیرت انسائیکلوپیڈیا جیسے منصوبے کے آغاز پر اتھارٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے خوش بختی ہے کہ اس سعادت کا تعلق اردو زبان سے ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی اور سیرت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وسائل کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ بھی سیرت انڈومنٹ فنڈ میں عطیات دے کر اس کارِ خیر میں حصہ لیں، تاکہ معاشرے میں سیرت پاک ﷺ کی تعلیمات عام ہوں اور تعصب، نفرت، ظلم، ناانصافی اور انتہا پسندی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ سیرت پاک ﷺ کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلے۔