چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں گمراہ کن تجارتی دعوے چند لمحوں میں سرحدیں عبور کرکے بڑے پیمانے پر صارفین اور دیانت دار کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے جدید نگرانی، موثر نفاذ اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے ماسکو میں ڈیجیٹل دور میں صارفین کے حقوق کا تحفظ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی …
چیئرمین سی سی پی نے ماسکو کانفرنس میں ذمہ دار کاروبار اور تحفظ صارفین کیلئے پاکستان کے اقدامات اجاگر کیے

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں گمراہ کن تجارتی دعوے چند لمحوں میں سرحدیں عبور کرکے بڑے پیمانے پر صارفین اور دیانت دار کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے جدید نگرانی، موثر نفاذ اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے ماسکو میں ڈیجیٹل دور میں صارفین کے حقوق کا تحفظ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ذمہ دار کاروباری طرزِ عمل، گمراہ کن تشہیر کی روک تھام اور روایتی و ڈیجیٹل منڈیوں میں صارفین کے تحفظ کیلئے پاکستان کے اقدامات اجاگر کیے۔
کانفرنس کا انعقاد روسی ادارے روس پوٹریب نادزور نے 8 اور 9 اکتوبر کو کیا۔ذمہ دار کاروبار اور محفوظ مصنوعات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرید احمد تارڑ نے کہا کہ موثر کمپٹیشن اور صارفین کی فلاح ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کے تحت کاروباری اداروں کے دعوے سچے، قابل تصدیق اور شفاف ہونے چاہئیں۔ انہوں نے سٹریپ سلز، ڈیٹول، لائف بوائے اور ڈیری آئس کریم کے طور پر فروخت کیے جانے والے فروزن ڈیزرٹ سے متعلق سی سی پی کی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا۔چیئرمین نے بتایا کہ سی سی پی ویب سکریپنگ، مصنوعی ذہانت سے معاون تجزیے، میٹا ایڈ لائبریری اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے ممکنہ گمراہ کن دعوئوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفاذ کے ساتھ رہنمائی، آگاہی اور پیشگی احتیاطی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
دورہ ماسکو کے دوران چیئرمین سی سی پی نے روس کی فیڈرل اینٹی مونوپولی سروس (ایف اے ایس) کے سربراہ میکسم شاسکولسکی اور ان کی ٹیم سے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں 27 نومبر 2025ء کو طے پانے والے سی سی پی–ایف اے ایس مفاہمتی یادداشت کے تحت کارٹلز، غالب حیثیت کے ناجائز استعمال، مرجر کنٹرول، گمراہ کن تشہیر اور شعبہ جاتی جائزوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میکسم شاسکولسکی نے ادارہ جاتی روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریگولیٹری تجربات، ماہرین کے تبادلوں، تربیت اور مشترکہ تحقیق میں تعاون آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں اداروں نے شفاف، مسابقتی اور صارف دوست منڈیوں کے فروغ کیلئے عملی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔








