وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیرکو بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر پاکستان کی جانب سے بورورز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالی۔وزارت خزانہ کے مطابق اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے پلیٹ فارم کو فعال بنانے میں مصر کی قیادت ، رکن ممالک اور سیکرٹریٹ کی کاوشوں کو سراہا۔وزیرِ خزانہ نے زور …
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بورورز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھال لی، قرض کو ترقی کے لئے موثر ذریعہ بنانے پر زور

مزید خبریں
بنکاک۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیرکو بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر پاکستان کی جانب سے بورورز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالی۔وزارت خزانہ کے مطابق اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے پلیٹ فارم کو فعال بنانے میں مصر کی قیادت ، رکن ممالک اور سیکرٹریٹ کی کاوشوں کو سراہا۔وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ اجتماعی سودے بازی کا فورم بننا یا بحرانوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کے طور پر کام کرنے کی بجائے بورورز پلیٹ فارم کا مقصد باہمی تجربات سے سیکھنے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے 2026-27 کے عملی منصوبے کے تحت پاکستان کی ترجیحات پرروشنی ڈالی جن میں قرض کے انتظام کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، اصلاحات کے تجربات کا تبادلہ اور ترقیاتی مالیات کے لئے جدید ذرائع تلاش کرنا شامل ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عملی اقدامات کے نفاذ اور قابلِ پیمائش نتائج کے حصول کے لئے پرعزم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ قرض نموکی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے ترقی کا ذریعہ ہونا چاہئے ۔اختتامی کلمات میں وزیرِ خزانہ نے پلیٹ فارم کی ادارہ جاتی بنیادوں، انتظامی ڈھانچے اور مشترکہ عملی پروگرام کی تشکیل میں تیز رفتار پیشرفت کا خیرمقدم کیا اور ممکنہ رکن ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی سراہا۔
اجلاس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ دریں اثناء وزیرِ خزانہ نے اقوامِ متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل کی ایگزیکٹو سیکرٹری آرمیدا سالسیا علی سجہبانا سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی ترجیحات اور تعاون کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرِ خزانہ نے معاشی استحکام کے حصول میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے ذریعے ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے آفات سے نمٹنے کی تیاری، پیشگی انتباہی نظام اور قابلِ عمل موسمیاتی منصوبوں کی تیاری کے لئے تکنیکی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں ڈیجیٹل مہارتوں، روزگار، پائیدار مالیات، توانائی کی منتقلی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے لئے ممکنہ تکنیکی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرِ خزانہ نے پالیسی تجزیے کو قابلِ عمل اقدامات اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کیلئے عملی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پرزوردیا۔
وزیرِ خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز سے ملاقات میں پاکستان میں معاشی استحکام، آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگرام پر پیشرفت اورڈھانچہ جاتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا ۔وزیرِ خزانہ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافے اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس ں تک دوبارہ رسائی پرروشنی ڈالی ۔انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، نجکاری اور پائیدار معاشی ترقی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
فریقین نے پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان سٹاف سطح کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور مالیاتی کارکردگی، زرمبادلہ کے ذخائر، افراطِ زر اور بیرونی شعبے کے استحکام میں بہتری کی تائیدکی،ملاقات میں مشرقِ وسطی کے تنازع کے توانائی کی قیمتوں اور افراطِ زر پر اثرات، نیز مالیاتی گنجائش کے اندر رہتے ہوئے معاشی طورپر کمزور طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔فریقین نے مسلسل تعاون جاری رکھنے اور بیرونی چیلنجز کے تناظر میں معاشی استحکام کو محفوظ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔








