قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کیلئے علاقائی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، صدر آصف علی زرداری کا قدرتی آفات کے خطرات میں کمی بارے عالمی دن پر پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے لیے علاقائی سطح پر مل کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ دریائوں و مشترکہ خطرات کے حوالے سے وسیع تر بین الاقوامی تعاون ضروری ہے،قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کو اپنے کام کا بنیادی جزو بنائیں ، پاکستان موسمیاتی آفات کے خلاف جدوجہد میں …

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے لیے علاقائی سطح پر مل کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ دریائوں و مشترکہ خطرات کے حوالے سے وسیع تر بین الاقوامی تعاون ضروری ہے،قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کو اپنے کام کا بنیادی جزو بنائیں ، پاکستان موسمیاتی آفات کے خلاف جدوجہد میں محض متاثرہ ملک نہیں بلکہ ایک رہنما ملک بن سکتا ہے۔انہوں نے یہ بات قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہی جوہرسال 13 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے دن کو منا رہے ہیں جو پاکستان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، ہم سیلابوں، زلزلوں، شدید گرمی کی لہروں اور خشک سالی سے گزرے ہیں، ہم آفات کے باعث زندگیوں، گھروں اور امیدوں کو پہنچنے والے نقصانات کی قیمت جانتے ہیں، ہم نے سیکھا ہے کہ ہمیں محض ردعمل کا مظاہرہ نہیں بلکہ پہلے سے تیاری کرنی چاہیے، طویل عرصہ تک ہم آفات آنے کے منتظر اور پھر مدد کے لیے دوڑتے رہے ، اب یہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی نظام نے خطرات کی پیشگی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹس اور حقیقی وقت کے اعداد و شمار کو بروئے کار لاتے ہوئے قابل ذکر کام کیا ہے، یہ نظام آبادیوں کو قبل از وقت انتباہ جاری کرتا ہے اور پانی کی سطح بلند ہونے سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں مدد دیتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ مقامی آبادیاں اور مقامی حکومتیں آفات کے خلاف ہماری پہلی دفاعی صف ہیں، کوئی وفاقی دفتر کسی گاؤں کو اس کے اپنے لوگوں سے زیادہ تیزی سے نہیں بچا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور کمیونٹی کے رضاکار اکثر سب سے پہلے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے علاقے اور وہاں کے لوگوں سے واقف ہوتے ہیں۔صدرمملکت نے قومی اور عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کو اپنے کام کا بنیادی جزو بنائیں ۔پاکستان کا ماڈل دنیا کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے لیے علاقائی سطح پر تعاون کو فروغ دیا جائے اور خطے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔ قبل از وقت انتباہ کی اطلاعات فوری طور پر سرحدوں کے پار پہنچنی چاہئیں۔صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں عالمی آبی استحکام کے پروگرام ،کرہ ارض کے برفانی خطوں کے تحفظ کے اقدام ، عالمی غذائی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کے لیے عالمی فنڈ کے قیام جبکہ اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے موثر قوانین اور مشترکہ دریائوں و مشترکہ خطرات کے حوالے سے وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی عوام کی ہمت، متاثرہ آبادیوں کی تعمیرنو ، دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے رضاکاروں اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سائنس دانوں کی شبانہ روز کوششوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔اس لیے میں پر امید ہوں اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان موسمیاتی آفات کے خلاف جدوجہد میں محض متاثرہ ملک نہیں بلکہ ایک رہنما ملک بن سکتا ہے۔صدر مملکت نے اپنے پیغام میں اس امر پر زور دیا کہ آئیے، اب مل کر عمل کریں۔ آئیے ایک ایسا پاکستان تشکیل دیں جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط اور ثابت قدم ملک ہے اور آگے بڑھتا رہے گا۔