پاکستان جی 24 کے آئندہ چیئر کی حیثیت سے گروپ کے اجتماعی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا بنکاک میں اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینٹرمحمد اورنگزیب نے پاکستان کی جانب سے جی 24 کے آئندہ چیئر کی حیثیت سے گروپ کے اجتماعی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے اور ترقی پذیر معیشتوں کے مفادات کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینٹرمحمد اورنگزیب نے پاکستان کی جانب سے جی 24 کے آئندہ چیئر کی حیثیت سے گروپ کے اجتماعی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے اور ترقی پذیر معیشتوں کے مفادات کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے یہ بات منگل کوبنکاک میں عالمی بینک گروپ اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں جی 24 کے فرسٹ وائس چیئر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیرخزانہ نے اپنے خطاب میں ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش عالمی سطح پر تقسیم کے باعث تجارت اور سرمایہ کاری میں رکاوٹوں، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے ترقیاتی کامیابیوں کو پہنچنے والے نقصانات، سخت مالیاتی حالات اور مالی وسائل کی بڑھتی ہوئی کمی جیسے چیلنجز اورمسائل پرتفصیل سے روشنی ڈالی ۔وزیرخزانہ نے جی 24 کے آئندہ چیئر کی حیثیت سے گروپ کے اجتماعی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے اور ترقی پذیر معیشتوں کے مفادات کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کرنے کے حوالہ سے پاکستان کے عزم کااعادہ کیا ۔وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کو ان چیلنجز کے مطابق آگے بڑھاناوقت کی ضرورت ہے ۔وزیرخزانہ نے مشکل اصلاحات پر عمل پیرا ایسے ممالک کو بروقت معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو ایسے بیرونی حالات کے منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں جن پر ان کا اختیار نہیں۔انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ترقی کو مرکزی مقصد کی حیثیت سے بحال کرنا، بریٹن ووڈز اداروں کو زیادہ نمائندہ اور رکن ممالک کی ضروریات کے لیے زیادہ موثر بنانااور ترقی کے فروغ پر مرکوز بین الاقوامی مالیاتی نظام کی تشکیل کوجی 24 کی تین ترجیحات قراردیا اوران مقاصدکے حصول کیلئے مشترکہ اقدامات اورکوششوں کی ضرورت پرزوردیا ۔نائیجیریا کی قیادت کو سراہتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے زیادہ جامع، مستحکم اور ترقی پر مبنی عالمی معاشی نظام کے قیام کے لیے رکن ممالک اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔\