کمبوڈین وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور

کمبوڈیا کے وزیراعظم ہن مانیٹ نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے اور انسانی و مادی وسائل میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے

نوم پنہ۔13اکتوبر (اے پی پی):کمبوڈیا کے وزیراعظم ہن مانیٹ نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے اور انسانی و مادی وسائل میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق کمبوڈین وزیراعظم نے قومی یومِ انتظامِ آفات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ماحولیاتی، سماجی اور معاشی عوامل کے باعث قدرتی آفات کے خطرات تیزی سے پیچیدہ ہو رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کو آفات کے انتظام کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تنزلی سے پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کو ترجیح دی جائے، مقامی آبی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے اور موسمیاتی خطرات سے دوچار گھرانوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ ملک میں آفات کے مقابلے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔انہوں نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے گھریلو سطح پر حفاظتی منصوبے تیار کریں اور صاف پانی، خشک خوراک، ادویات، ریڈیو اور ضروری دستاویزات پر مشتمل ہنگامی سامان تیار رکھیں۔ انہوں نے گھروں کو تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے ساتھ بچوں، بزرگوں، معذور افراد اور حاملہ خواتین کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ہن مانیٹ نے کہا کہ کمزور طبقات کے لیے محفوظ رہائش، سماجی تحفظ کے مؤثر نظام اور خطرات سے متعلق بروقت معلومات کی فراہمی میں عوامی سرمایہ کاری بڑھانا ضروری ہے۔کمبوڈیا کی قومی کمیٹی برائے انتظامِ آفات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ شدید بارشوں کے باعث ملک کے 10 صوبوں کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب آیا جس سے تقریباً 60 ہزار خاندان متاثر ہوئے جبکہ لگ بھگ 5 ہزار خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، سیلابی پانی سے تقریباً 52 ہزار مکانات زیرِ آب آگئے اور 72 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر چاول کی فصل کو نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ کمبوڈیا کو شدید موسمی حالات، بے ترتیب بارشوں، تیز ہواؤں، آسمانی بجلی گرنے، دریاؤں کے کنارے منہدم ہونے، متعدی بیماریوں اور آتش زدگی جیسے مسائل کا سامنا ہے جو انسانی جانوں اور املاک کے لیے خطرہ ہیں۔