وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 50 نرسز کی تربیت کی تکمیل بارش کا پہلا قطرہ ہے
پچاس نرسز کی تربیت کی تکمیل بارش کا پہلا قطرہ ہے، وفاقی وزیر برائے قومی صحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 50 نرسز کی تربیت کی تکمیل بارش کا پہلا قطرہ ہے، حکومت تمام وفاقی ہسپتالوں کی نرسز کی تربیت کرے گی اور ان کی تنخواہوں سمیت دیگر معاملات میں بہتری لائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام نرسنگ طلبہ میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے نرسنگ کے شعبے کی اہمیت، نرسز کی پیشہ ورانہ تربیت، نرسنگ کونسل میں اصلاحات اور پاکستان کے صحت کے نظام میں بہتری کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ نرسنگ کا پیشہ صدقہ جاریہ ہے اور شعبۂ صحت میں نرسز کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہیلتھ کیئر میں نرسنگ کا 99 فیصد کردار ہے۔ نرسنگ کے شعبے کو ہر سطح پر ترجیح دینا ہوگی۔موجودہ حکومت نے نرسنگ کونسل میں اصلاحات کرکے نظام کو بہتر بنایا ہے اور اب کسی کو بھی نرسنگ کونسل سمیت کسی ادارے کو ذاتی مفادات کے لیے کھلونا بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے والے افراد بھی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر لیتے ہیں۔ چوری کرنے والوں میں شرم و حیا اور احساسِ ذمہ داری کا فقدان ہوتا ہے۔ تاہم حکومت نے ایسے عناصر کے خلاف اقدامات کیے ہیں جنہیں ماضی میں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحات کے بعد نرسنگ کونسل میں بدعنوانی کی گنجائش محدود کر دی گئی ہے،جو بھی بدعنوانی کرتے ہوئے پکڑا جائے گا، وہ احتساب سے نہیں بچ سکے گا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ نرسنگ کالجز کو کاروبار کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، بلکہ ان کا بنیادی مقصد نرسنگ کی معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ حکومت جلد اسلام آباد کے شعبۂ نرسنگ کو پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ماڈل بنائے گی۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز کے سانحے اور ہسپتال میں جاری اصلاحات کے حوالے سے کہا کہ اس واقعے کے بعد جامع اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور ہسپتال کے نظام کو موثر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پمز میں نیا نظام متعارف کرانے سے موجودہ ملازمین پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، تاہم مستقبل میں ہسپتال میں ہونے والی تمام بھرتیاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحہ پمز پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔ حکومت ہسپتال کے نظام میں بہتری لانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ نئے نظام کے تحت پمز کے بورڈ کو سزا و جزا کے اختیارات حاصل ہوں گے، جس سے انتظامی معاملات میں جواب دہی اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ 6 ماہ میں پمز میں بہتری دیکھنا چاہتا ہوں، پمز کے پورے بحران کے دوران انہوں نے کسی ایک شخص کو ذمہ دار قرار نہیں دیا، کیونکہ مقصد کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے نظام کی خامیوں کو دور کرنا اور ہسپتال کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پمز ہسپتال کو ایک بہترین اور موثر انتظامی نظام فراہم کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو معیاری طبی سہولیات میسر آئیں اور ہسپتال کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔








