شہدا کی قربانیوں کو کم تر دکھانا اور ان کا مذاق اڑانا افسوسناک ہے، ثمر ہارون بلو ر

مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلو ر نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی اصل مشکلات اپنے پیاروں کی شہادت کے بعد شروع ہوتی ہیں

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلو ر نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی اصل مشکلات اپنے پیاروں کی شہادت کے بعد شروع ہوتی ہیں، جب گھر کے سربراہ سے محروم ہونے والے خاندانوں کو معاشی و معاشرتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ شہدا کی قربانیوں کو کم تر دکھانا اور ان کا مذاق اڑانا افسوسناک ہے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2013 سے اب تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق حملوں میں تقریباً 47 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں صحافی، طلبہ، نمازی، اقلیتی برادری کے افراد، رضاکار اور خواتین سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والےافرادشامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے ان کے اپنے گھر سمیت بے شمار خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ شہداکے لواحقین کی مشکلات ان کے پیاروں کی شہادت کے بعد شروع ہوتی ہیں اور انہیں زندگی گزارنے کے لیے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پختون معاشرے میں اب بھی مردوں اور خواتین کے کردار متعین ہیں، ایسے میں جب گھر کا سربراہ چھن جاتا ہے تو ان کی طرح بہت سی خواتین کو گھر کی چار دیواری سے نکل کر محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے اور اپنے بچوں اور خاندان کو سنبھالنے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ایک دو دن لوگ متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے، لیکن اب حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ شہادتوں کے حوالے سے بھی منفی بیانیہ شروع ہو جاتا ہے، شہدا کی قربانیوں کو کم تر دکھایا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ کوئی شخص نماز پڑھنے، دکان یا ٹھیلے پر کام کرنے یا اپنے اہل خانہ کے لیے رزق کمانے گھر سے نکلتا ہے تو اس کا مقصد اپنے بیوی بچوں اور والدین کی کفالت کرنا ہوتا ہے، کوئی بھی شخص اس ارادے سے گھر سے نہیں نکلتا کہ اس کی لاش ٹکڑوں میں واپس آئے۔

مزید خبریں