پائیدار مستقبل کے لیے سائنسی تحقیق، جدت اور عالمی تعاون ناگزیر ہے، وفاقی سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی

وفاقی سیکریٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے کہا ہے کہ پائیدار مستقبل کے حصول کے لیے سائنسی تحقیق، جدت اور عالمی تعاون ناگزیر ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور غذائی عدم تحفظ جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی جدت اور وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی سیکریٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے کہا ہے کہ پائیدار مستقبل کے حصول کے لیے سائنسی تحقیق، جدت اور عالمی تعاون ناگزیر ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور غذائی عدم تحفظ جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی جدت اور وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔ پائیدار مستقبل سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائنسی تعلیم کا فروغ، نوجوان محققین کی معاونت اور تحقیقی نتائج کو عملی حل میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے

حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی حکمت عملیوں کی بنیاد سائنسی شواہد پر ہونی چاہیے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔ وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور چین، ایران، ترکیہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو سائنسی علم اور جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم، مہارت اور وسائل کا باہمی تبادلہ عالمی مسائل کے موثر حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

شاہد اقبال بلوچ نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس پائیدار مستقبل کے لیے عملی سفارشات مرتب کرنے اور عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کانفرنس پائیدار ترقی کے لیے سائنس کی بین الاقوامی دہائی کے مقاصد کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ وفاقی سیکریٹری نے کانفرنس کے انعقاد پر کامسیٹس، اے این ایس او اور ٹی ڈبلیو اے ایس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔

مزید خبریں