صدر مملکت آصف علی زرداری سے یورپی کمشنر برائے داخلہ امور میگنس برونر کی ملاقات
صدر مملکت آصف علی زرداری سے یورپی کمشنر برائے داخلہ امور میگنس برونر کی ملاقات، صدر کا یورپ میں پاکستانی کارکنوں اور پیشہ ور افراد کیلئے قانونی نقل مکانی کے زیادہ مواقع فراہم کرنے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے یورپ میں پاکستانی کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی نقل مکانی کے زیادہ مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کے ساتھ قانونی نقل مکانی کے راستوں میں توسیع، ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور یورپی یونین کے ساتھ منظم تعاون کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار یورپی کمشنر برائے داخلہ امور و مائیگریشن میگنس برونر سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے منگل کو ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ منگل کو ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، نقل مکانی کے انتظام، انسانی سمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون اور قانونی نقل مکانی میں سہولت فراہم کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ وسیع البنیاد تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔صدر مملکت نے غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ری ایڈمیشن معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران 30 ہزار سے زائد افراد کو واپس قبول کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قانون سازی کو مزید مضبوط بنانے، ادارہ جاتی استعداد بڑھانے، سرحدی کنٹرول موثر بنانے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے پرعزم ہے۔غیر قانونی نقل مکانی میں کمی کے حوالے سے پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سے غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جس نے اس قدر کمی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی مسلسل کوششوں کی عکاس ہے اور محفوظ و قانونی نقل مکانی کے راستوں کو وسعت دینے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان نے غیر قانونی نقل مکانی اور تارکین وطن کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کوششیں موثر بنانے کی غرض سے پاکستان کوسٹ گارڈز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی استعداد بڑھانے کے لیے یورپی یونین سے معاونت طلب کی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ کارکنوں کو محفوظ مواقع فراہم کرنے اور سمگلنگ کے نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے کے لیے قانونی نقل مکانی کے راستے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے پاکستان-یورپی یونین نقل مکانی کے مکالمے کو ایک مفید فریم ورک قرار دیا جس کے ذریعے پاکستان کی افرادی قوت کی صلاحیت کو یورپی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکالمے کا اگلا دور جو آئندہ سال کے اوائل میں برسلز میں متوقع ہے، اس تعاون کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔صدر آصف علی زرداری نے یورپی یونین کے ٹیلنٹ پارٹنرشپس فریم ورک میں توسیع کا بھی خیرمقدم کیا اور سرکلر مائیگریشن سمیت ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی افرادی قوت کو یورپی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ ایک منظم طریقہ کار پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ ٹیلنٹ پارٹنرشپ اور غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے پاکستان کی کوششوں کے پیش نظر یورپی یونین پاکستان میں یورپی لیگل گیٹ وے آفس قائم کرنے پر بھی غور کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی مکالمے، تجارت، ترقیاتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں پر مشتمل وسیع البنیاد تعلقات قائم ہیں۔ صدر مملکت نے اعتماد ظاہر کیا کہ مسلسل رابطوں سے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ ملے گا اور نقل و حرکت کے شعبوں میں عملی تعاون آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
یورپی کمشنر میگنس برونر نے علاقائی توازن برقرار رکھنے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے غیر معمولی کام کیا ہے۔انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو خطرناک سفر اختیار کرنے سے روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا جن کے دوران بہت سے افراد اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریمونداس کاروبلس، ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے ہجرت و داخلہ امور، یورپی کمیشن ہینرک نیلسن اور کمشنر برونر کے کابینہ ممبر گریگوریوس ڈیلاویکوراس کمشنر کے ساتھ موجود تھے۔وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔








