وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے تمام صوبوں میں خصوصی ٹاسک فورسز قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ پاکستان کا مستقبل ہماری خواتین، بچیوں اور بچوں …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا خون کی کمی اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ کے خاتمے کے لیے صوبوں میں خصوصی ٹاسک فورسز قائم کرنے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے تمام صوبوں میں خصوصی ٹاسک فورسز قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ پاکستان کا مستقبل ہماری خواتین، بچیوں اور بچوں کی صحت، تعلیم اور بہتر نشوونما سے وابستہ ہے۔منگل کو پاکستان میں خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی کے خاتمے کے قومی منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مسائل کی نشاندہی کافی نہیں بلکہ اصل کامیابی دستیاب علم کو عملی اقدامات اور موثر نتائج میں تبدیل کرنے میں ہے، پاکستان میں تقریباً ہر دو میں سے ایک عورت اور بڑی تعداد میں بچیاں خون کی کمی کا شکار ہیں جو صحت عامہ اور انسانی ترقی کے حوالے سے فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ خواتین اور بچیوں کی صحت اور ترقی میں سرمایہ کاری درحقیقت پاکستان کے انسانی سرمائے اور معاشی خوشحالی میں سرمایہ کاری ہے، ملک کی پائیدار ترقی کے لیے صحت، تعلیم اور غذائیت کے شعبوں کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا اور صوبوں کو سماجی شعبوں کے ترقیاتی پروگراموں میں توسیع دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور غذائیت سے متعلق مسائل کا موثر حل اختیارات کو صوبائی سطح سے ضلعی اور مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے میں ہے، بااختیار ضلعی اور مقامی حکومتوں کے بغیر عوام کو معیاری بنیادی سہولیات کی موثر فراہمی ممکن نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت سماجی شعبوں میں اصلاحات کی قیادت کرے گی تاہم ان اصلاحات پر موثر عمل درآمد کے لیے صوبوں کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قومی سطح پر طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل آج ہماری گود میں پلنے والے بچوں کی صحت، تربیت اور ابتدائی پانچ سال کی نشوونما سے جڑا ہے، بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال ذہنی، جسمانی اور تعلیمی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے اس عرصے میں مناسب غذائیت، صحت کی سہولیات اور بہتر نگہداشت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو اپنے بچوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ آج کے بچے ہی 2047ء میں پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کو درپیش مسائل علم کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ موثر عمل درآمد اور قومی سطح پر سنجیدہ اقدامات کے فقدان سے پیدا ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت، تعلیم اور غذائیت کے شعبوں میں مربوط اقدامات کے ذریعے انسانی ترقی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نسل کی تشکیل کے ذریعے ملک کی معاشی و سماجی ترقی کی بنیاد مضبوط بنائی جا سکے۔








