یمن میں بے گھر افراد کی بڑھتی تعداد سے بنیادی سہولیات پر دباؤ، خوراک اور صحت کے مسائل سنگین ہونے لگے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری جھڑپوں اور لوگوں کی نقل مکانی کے باعث شہریوں کو خوراک کی قلت، صحت کے خطرات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے

اقوام متحدہ ۔14اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری جھڑپوں اور لوگوں کی نقل مکانی کے باعث شہریوں کو خوراک کی قلت، صحت کے خطرات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے بتایا کہ تعز شہر میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی دستیابی کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئی ہیں، کھانا پکانے کے لیے گیس بڑی حد تک نایاب ہو چکی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گندم اور آٹے کے موجودہ ذخائر بھی تین ہفتوں سے کم عرصے میں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔او سی ایچ اے کے مطابق ایندھن کی قلت کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہو رہا ہے، جس سے پانی کی خدمات مزید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بے گھر افراد کے گنجان کیمپوں، صاف پانی تک محدود رسائی اور صحت کی ناکافی سہولیات کے باعث خاندانوں کی صحت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے یمن میں ہیضے کے مشتبہ کیسز میں نمایاں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال اب تک 8 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں ایک چوتھائی گزشتہ چار ہفتوں کے دوران سامنے آئے۔ اسی طرح خسرے کے 22 ہزار 800 سے زائد مشتبہ کیسز اور 128 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ حفاظتی ٹیکوں کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا کہ جاری تنازع کے باوجود یمن پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر کے اختتام تک رواں سال کے دوران ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد تارکین وطن ملک میں داخل ہو چکے تھے۔او سی ایچ اے کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے اگست میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے یمن بھر میں تقریباً ایک لاکھ 48 ہزار افراد کو ہنگامی امداد فراہم کی ہے۔اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائیں، شہریوں کی محفوظ نقل و حرکت میں سہولت فراہم کریں اور ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی محفوظ، تیز اور بلا رکاوٹ رسائی ممکن بنائیں۔