حرمین شریفین اور سعودی عرب پر حوثی دہشت گردوں کے حملے ناقابلِ قبول ہیں، پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کا 16 اکتوبر کو ملک گیر یومِ مذمت و یکجہتی منانے کا اعلان، چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس

حرمین شریفین اور سعودی عرب پر حوثی دہشت گردوں کے حملے ناقابلِ قبول ہیں، پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کا 16 اکتوبر کو ملک گیر یومِ مذمت و یکجہتی منانے کا اعلان، چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل، پاکستان علماء کونسل، متحدہ جمعیت اہلِ حدیث، متحدہ علماء کونسل، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، وفاق المدارس والجامعات الدینیہ پاکستان، اتحاد المدارس پاکستان، جمعیت علماء اسلام اور دیگر مختلف مذہبی و سیاسی تنظیموں کے قائدین نے مکہ المکرمہ، مدینہ المنورہ، عمرہ زائرین، سعودی شہریوں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اسلام، انسانیت، بین الاقوامی قوانین اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اخلاقی اقدار کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔

یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی رہنماؤں، جید مفتیانِ کرام اور سیاسی شخصیات مولانا نعمان حاشر، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا ابوبکر حمید صابری، مولانا عبد الہادی، مولانا ذوالفقار احمد، مولانا سعد ہزاروی، مولانا زاہد منصور، مولانا اسلم صدیقی، مفتی عمر فاروق، مولانا اسعد زکریا قاسمی، مولانا عبد المتین، مفتی مبشر نظامی, محمد نائب خان سبحانی اور مولانا بلال احمد نے کہا کہ مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس ترین مراکز ہیں۔

حرمین شریفین، اللہ کے مہمانوں، عمرہ زائرین، بے گناہ شہریوں، ہوائی اڈوں، رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا سنگین دہشت گردی اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں کا کوئی مذہبی، سیاسی یا اخلاقی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتِحال نہ تو دو ممالک کے درمیان تنازعہ ہے اور نہ ہی اسے شیعہ سنی یا فرقہ وارانہ مسئلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک مسلح دہشت گرد گروہ یمن کے بے گناہ عوام اور مملکت سعودی عرب پر حملہ آور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ نے یمن میں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا، مساجد اور شہری تنصیبات کو تباہ کیا اور اب حرمین شریفین، اللہ کے مہمانوں، عمرہ زائرین اور سعودی عرب کی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے، بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے اور مقدس مقامات پر حملے کرنے والوں کا کسی مذہب، مکتبِ فکر یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

خواہ ان کا تعلق فتنہ خوارج، ہندوتوا انتہا پسندی، حوثی دہشت گرد گروہوں، داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، جنداللہ، لشکر جھنگوی یا کسی دوسری بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے ہو، ان کے جرائم کے لئے یکساں معیار ہونا چاہئے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کسی دہشت گرد گروہ کو سیاسی یا فرقہ وارانہ وابستگی کی بنیاد پر درست قرار دینا دیگر دہشت گرد تنظیموں کے جرائم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مؤقف بالکل واضح ہے، بے گناہ انسانوں کا قتل، مقدس مقامات پر حملے اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا ہر صورت میں حرام، قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔حالتِ احرام میں شہید ہونے والے بنگلہ دیشی عمرہ زائر مفتی نصر اللہ اور دیگر بے گناہ شہریوں کی شہادت نے پوری امتِ مسلمہ کو سوگوار کر دیا ہے۔ انہوں نے شہداء کے اہلِخانہ سے دلی تعزیت، زخمیوں سے مکمل یکجہتی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کے مہمانوں پر حملہ درحقیقت پوری امتِ مسلمہ کے مذہبی جذبات اور انسانی ضمیر پر حملہ ہے۔علماء و مذہبی رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان کے اس واضح اور دوٹوک مؤقف کی مکمل تائید کی کہ حرمین شریفین اور مملکت سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لئے سرخ لکیر ہے۔

پاکستان کے عوام، علماء و مشائخ، حکومت اور قومی سلامتی کے ادارے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور استحکام کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون دونوں برادر ممالک کے تاریخی تعلقات اور مشترکہ مفادات کا مظہر ہے۔ مملکت سعودی عرب یا حرمین شریفین کے خلاف کسی بھی جارحیت کو پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کے لئے خطرہ تصور کیا جائے گا۔انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب کی جانب سے حرمین شریفین کی خدمت، فلسطینی عوام کی مدد، یمن کے مظلوم عوام کے لئے انسانی امداد اور عالمِ اسلام میں اتحاد کے فروغ کے لئے انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔سعودی عرب کے خلاف دہشت گردی کو فلسطین یا یمن کی حمایت قرار دینے کی کوششوں کو کھلا فریب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین کے نام پر مکہ المکرمہ، مدینہ المنورہ، اللہ کے مہمانوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا فلسطینی عوام کی خدمت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل، پاکستان علماء کونسل اور ان کی اتحادی تنظیموں نے علماء اسلام کے ان اجتماعی فتاویٰ، شرعی آراء اور اعلامیوں کی مکمل تائید کی جن میں حرمین شریفین، شہری آبادیوں اور بے گناہ انسانوں پر حملوں کو حرام، فساد فی الارض اور اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حوثی دہشت گردی کی مذمت کسی فرقے یا مکتبِ فکر کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی، مسلح بغاوت، ناحق قتل اور مقدس مقامات پر حملوں کے خلاف ایک واضح شرعی اور انسانی مؤقف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان اور کفر کے معاملات کا فیصلہ قرآن و سنت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق کرنا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے، تاہم دہشت گردی، ناحق قتل اور مقدس مقامات پر حملوں کو کسی صورت اسلامی عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ حوثی دہشت گردی، شہری تنصیبات پر حملوں اور حرمین شریفین کو لاحق خطرات کے خلاف محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے فوری، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے حوثیوں کو میزائل، ڈرون، مالی وسائل اور دیگر معاونت فراہم کرنے والے عناصر کو بھی جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔پاکستان علماء کونسل اور اس کی اتحادی تنظیموں کی اپیل پر جمعہ، 16 اکتوبر 2026ء کو ملک بھر میں یومِ مذمتِ حوثی دہشت گردی اور یومِ یکجہتی حرمین شریفین و مملکت سعودی عرب منایا جائے گا۔

علماء و خطباء اپنے خطباتِ جمعہ میں حرمین شریفین کی حرمت، اللہ کے مہمانوں کے تحفظ، دہشت گردی کی مذمت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت اجاگر کریں گے۔نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں حملوں کی مذمت اور سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی کے لیے قراردادیں منظور کی جائیں گی۔ مملکت سعودی عرب، حرمین شریفین، پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کے امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔اسی سلسلے میں بدھ، 21 اکتوبر 2026ء کو اسلام آباد میں حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوگی۔

کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء و مشائخ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان، اقلیتی نمائندے اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔کانفرنس میں حرمین شریفین کے تحفظ، مملکت سعودی عرب سے یکجہتی، حوثی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی اور ملی مؤقف اختیار کرنے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے فروغ کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علماء، مشائخ اور عوام خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی حکومت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کے تقدس، سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں