وزیراعظم کی قومی تعمیر و ترقی کےلئے ترجیحی شعبوں کو قرضے فراہم کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی، اپنا گھر، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کو قرضوں کی بروقت فراہمی ملکی معیشت کے فروغ کےلئے ناگزیر ہے،وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم کی قومی تعمیر و ترقی کےلئے ترجیحی شعبوں کو قرضے فراہم کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی، اپنا گھر، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کو قرضوں کی بروقت فراہمی ملکی معیشت کے فروغ کےلئے ناگزیر ہے،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی تعمیر و ترقی کے لئے ترجیحی شعبوں کو قرضے فراہم کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنا گھر، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کو قرضوں کی بروقت فراہمی ملکی معیشت کے فروغ کے لئے ناگزیر ہے۔ بدھ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم اپنا گھر سکیم، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کے لئے قرضوں کی فراہمی اور مالی وسائل تک رسائی کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے قومی تعمیر و ترقی کے لئے ان ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جن بینکوں کی اس حوالے سے کارکردگی اب تک غیر تسلی بخش رہی وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تاکہ ان کو بھی حکومتی حوصلہ افزائی ملے۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں، سیکرٹریوں اور سٹیٹ بینک کو ایس ایم ایز، زراعت اور ہائوسنگ فنانس کے شعبوں سے وابستہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جاری سکیموں کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی تجاویز حاصل کی جائیں۔

انہوں نے مشاورتی عمل رواں ماہ کے اختتام تک مکمل کرکے سفارشات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے غیر فعال پاسکو گوداموں اور سائلوز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان گوداموں اور سائلوز کی نجی شعبے کے تعاون سے کسانوں کی اجناس محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھائی جائے۔ وزیراعظم نے الائیڈ بینک کے اجناس کے ذخیرے کے گوداموں کے قیام اور ذخیرہ شدہ اجناس کے عوض کسانوں کو قرضوں کی فراہمی کے ماڈل کی پذیرائی کرتے ہوئے اس ماڈل کو نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے وسعت دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے الائیڈ بینک کے مجوزہ ایس ایم ای پارک کے قیام کےلئے سرمایہ کاری کے منصوبے کی پذیرائی کرتے ہوئے اپنا گھر ہائوسنگ سکیم سے مستفید ہونے کے متمنی افراد کے لیے کوائف فراہم کرنے کا عمل مزید آسان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہائوسنگ فنانس کے لیے غیر متنازع ملکیتی دستاویزات (Unencumbered Title Deed) کا حصول آسان بنایا جائے۔ وزیراعظم نے ڈویلپرز فنانس سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں ہائوسنگ، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے اعداد وشمار پیش کئے گئے۔ اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق بینکوں کی جانب سے تینوں ترجیحی شعبوں کے لئے ادارہ جاتی استعداد بڑھائی جا رہی ہے، ڈویلپرز فنانس کے فروغ کے لئے کام جاری ہے اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت اب تک 448 ارب روپے مالیت کے 75 ہزار 198 قرضوں کی منظوری ہوئی ہے ۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 14 ہزار افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، رواں سال 125,000 رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے، ہائوسنگ فنانس کے حوالے سے درخواستوں پر کارروائی کا دورانیہ کم کرکے صرف 15 کاروباری دن تک محدود کر دیا گیا ہے، ہائوسنگ فنانس کے لئے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کر دی گئی ہے۔ بریفنگ کے مطابق زرعی شعبے کے لئے قرضوں کا مجموعی حجم 1352 ارب روپے ہے جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہوئے، جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف مقرر ہے، ایس ایم ای شعبے کے 3 لاکھ 52 ہزار سے زائد کاروباری افراد کو 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جون 2027تک ایس ایم ای شعبے کے قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد کا ہدف 5 لاکھ 75 ہزار مقرر ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط اور ہائوسنگ فنانس کے طریقہ کار کو مزید آسان اور موثر بنانے کےلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اجلاس میں قرضوں کی فراہمی میں مشترکہ رسک شیئرنگ، سپلائی چین فنانسنگ کے فروغ ، مستند ڈیٹا شیئرنگ اور دیگر جاری اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطاء اللہ تارڑ، ریاض حسین پیر زادہ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، جے ایس بینک، عسکری بینک، الائیڈ بینک، حبیب میٹرو بینک، بینک آف خیبر اور ایم سی بی اسلامک بینک کے سی ای اوز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

مزید خبریں