وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بوائی سے قبل گندم کی قمیت کے تعین کا اعلان حوصلہ افزا، کسانوں کو مناسب معاوضہ اور صارف کو سستی گندم میسر ہو گی ،خالد محمود کھوکھر

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بوائی سے قبل گندم کی قمیت کے تعین کا اعلان حوصلہ افزا، کسانوں کو مناسب معاوضہ اور صارف کو سستی گندم میسر ہو گی ،خالد محمود کھوکھر

لاہور۔14اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا صوبوں کی مشاورت سے بوائی سے قبل گندم کی قمیت کے تعین کا اعلان حوصلہ افزا ہے،صحیح قمیت کے تعین سے کسانوں کو محنت کا مناسب معاوضہ اور صارف کو سستی گندم میسر ہو گی،کسانوں کو کم لاگت پر کھاد،بیج،مشینری فراہم کر کے فصلوں کی بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے،پاکستان کی ترقی،کسان کی خوشحالی سے وابستہ ہے،زراعت کو انڈسٹری کا درجہ دینا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے،جبکہ لاکھوں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ زرعی شعبے سے اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں،اگر کسان خوشحال ہوگا تو زراعت ترقی کرے گی،دیہی معیشت مضبوط ہوگی اور ملک میں غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔صدر پاکستان کسان اتحاد نے کہا کہ گندم پاکستان کی بنیادی غذائی ضرورت ہے اور اس کی پیداوار میں کسانوں کا کردار ملکی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے،گزشتہ دو سے تین سال کسانوں کے لیے انتہائی مشکل رہے ہیں

،گندم کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث کاشتکاروں نے دوسری فصلوں کی طرف رخ کیا،جس سے مختلف فصلوں کی کاشت میں عدم توازن پیدا ہوا، بعض فصلوں کی زیادہ پیداوار کے باعث ان کی قیمتیں متاثر ہوئیں جبکہ گندم کی کاشت اور اس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی،ان حالات نے کسانوں کو معاشی مشکلات سے دوچار کیا اور اس کے اثرات زرعی معیشت کے ساتھ عام صارفین تک بھی پہنچے۔انہوں نے کہا کہ گندم صرف ایک فصل نہیں بلکہ پاکستان کی غذائی سلامتی، زرعی معیشت اور دیگر فصلوں کے منافع بخش ہونے سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے، اس لیے گندم کی مناسب قیمت سے پورے زرعی شعبے کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی، پانی، زمین کی تیاری، کٹائی اور فصل کی نقل و حمل پر آنے والے اخراجات میں اضافہ کاشتکاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اگر کسان کو اس کی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا تو وہ اگلی فصل کی کاشت کے لیے درکار وسائل پورے نہیں کر سکتا، کسان کو معاشی تحفظ فراہم کرنا صرف ایک طبقے کی مدد نہیں بلکہ قومی غذائی تحفظ میں سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسان کو پیداوار جاری رکھنے کے لیے مناسب معاشی حالات میسر ہونا ناگزیر ہیں،اگر کسان مسلسل مالی دبائو کا شکار رہے گا تو زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، کسان تنظیمیں، زرعی ماہرین اور متعلقہ ادارے باہمی مشاورت سے ایسی پالیسی تشکیل دیں جو کسان اور صارف دونوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر قیادت متعلقہ فورم پر ہونے والی مشاورت کے دوران گندم کی قیمت 4500 روپے فی من تجویز کیے جانے سے کسانوں میں امید پیدا ہوئی ہے، مناسب قیمت ملنے سے کاشتکار گندم کی کاشت میں دلچسپی لیں گے، جس سے آئندہ فصلوں کے لیے رسد اور طلب میں توازن پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مثبت اثرات صرف گندم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آلو، گنا، مکئی، پیاز، گوبھی اور دیگر فصلوں کی کاشت اور قیمتوں پر بھی مرتب ہو ں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہ دینے کے فیصلے کو بھی سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی محاذ آرائی کو فروغ دینا نہیں، بلکہ کسانوں کے حقوق کا تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافہ اور پاکستان کو غذائی لحاظ سے مضبوط بنانا ہے،ہمیں امید ہے کہ حکومت کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لے گی اور ایسی موثر پالیسی اختیار کرے گی جس سے کسان کو محنت کا مناسب معاوضہ، عوام کو مناسب قیمت پر خوراک اور ملک کو مستحکم غذائی تحفظ حاصل ہو کیونکہ پاکستان کی ترقی، کسان کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔

صدر پاکستان کسان اتحاد نے کہا کہ گندم کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹنگ کے معاملات کو قومی غذائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، حکومت سے اپیل ہے کہ وہ ملک میں گندم کے مناسب ذخائر برقرار رکھنے اور ضرورت کے وقت عوام کو اس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے موثر نظام قائم کرے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور عالمی سطح پر زرعی پیداوار میں غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے اہم چیلنجز ہیں، پانی کی محدود دستیابی کے باعث زرعی منصوبہ بندی، فصلوں کے انتخاب اور وسائل کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے،عالمی موسمیاتی تبدیلیاں بھی مختلف خطوں میں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں، اس لیے پاکستان کو مستقبل کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان کسان اتحاد کے صدر نے وزیراعظم ، حکومت پنجاب، متعلقہ وفاقی و صوبائی وزرا اور حکومتی حکام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت کے تعین کے لیے ہونے والی پیش رفت کسانوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان برادری ملک کی ترقی اور غذائی خود کفالت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے ملک بھر کے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ گندم کی کاشت میں بھرپور حصہ لیں اور بہتر پیداوار کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں استعمال کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مناسب قیمت، بہتر زرعی منصوبہ بندی اور شفاف خریداری نظام کے ذریعے کسانوں کے گزشتہ نقصانات کا ازالہ کرنے اور ملک میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید خبریں