چیف سیکریٹری سندھ کا مہران یونیورسٹی کا دورہ، 75 طالبات کی رہائش کی گنجائش پر مشتمل گرل ہاسٹل کا افتتاح کیا

چیف سیکریٹری سندھ کا مہران یونیورسٹی کا دورہ

حیدرآباد۔ 14 اکتوبر (اے پی پی):چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ کا مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو کا دورہ، 75 طالبات کی رہائش کی گنجائش پر مشتمل گرلز ہاسٹل کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ جب بھی وہ مہران یونیورسٹی آتے ہیں تو انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور ہر دورے کے دوران یونیورسٹی میں بہتری دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہاں کا ماحول اس قدر مشکل تھا کہ کوئی آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا اور طالبات کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن اب جامشورو کے ماحول اور ترقی کو دیکھ کر واضح تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ بیرونِ ملک یونیورسٹیوں کو معاشی مسائل کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ وہاں تعلیم، تحقیق اور تربیت پر توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی جا چکے ہیں، جہاں تعلیم اور تحقیق کے لیے آنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ صرف آئیں، ان کے لیے تمام سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں، حتیٰ کہ قرض کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز کو پنشن فنڈز کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ حکومت اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو پانی، شمسی توانائی، بجلی اور گیس جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہوتا۔

ہمیں بھی اپنے اداروں کو ترقی دینا ہوگی اور اپنے بچوں کو اپنے ہی اداروں میں تعلیم فراہم کرنا ہوگی۔ بچوں کے بیرونِ ملک چلے جانے سے نہ صرف معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے بلکہ جذباتی اور احساساتی طور پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، وائس چانسلر مہران یونیورسٹی اور سندھ حکومت کے محکمہ منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کا جائزہ لیں گے اور ان کی تکمیل کے لیے سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، پانی اور صحت سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کہ ہمارے بے روزگار نوجوان بیرونِ ملک جا کر الیکٹریشن، ڈرائیونگ، پلمبرنگ اور دیگر فنی شعبوں میں ملازمتوں کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو مقامی سطح پر تربیت، سرٹیفکیٹس اور لائسنس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ مہران یونیورسٹی کا یہ منصوبہ قابلِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت منچھر جھیل کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے اور وائس چانسلر کو یقین دلایا کہ وہ مہران یونیورسٹی کے لیے پانی کی فراہمی کی اہم پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہران یونیورسٹی ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے، جو ماحولیاتی تبدیلیوں، سیلابوں، منچھر جھیل کی بحالی اور آر بی او ڈی اور ایل بی او ڈی جیسے منصوبوں کی بہتری، بحالی اور اصلاح کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر مہران یونیورسٹی کی کارکردگی اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سربراہی میں مزید چار سال تک سوچنے، منصوبہ بندی کرنے اور کام کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی جامعات کا دورہ کرکے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں کے کوریڈور بھی کسی جدید لیبارٹری کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر مہران یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طحہٰ حسین علی نے یونیورسٹی میں جاری تدریسی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ وائس چانسلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہران یونیورسٹی کو پانی کی فراہمی پانچ کلومیٹر دور واقع کے بی فیڈر سے ہوتی ہے، جہاں پانی کی فراہمی کے حوالے سے متعدد مسائل درپیش ہیں۔ خدشہ ہے کہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اور یونیورسٹی کو سرسبز و شاداب بنانے کی کوششوں کے پیشِ نظر پانی کی موجودہ مقدار ناکافی ثابت ہوگی۔

اس لیے ضروری ہے کہ مہران یونیورسٹی کے لیے پانی کی فراہمی کی علیحدہ پائپ لائن کا منصوبہ منظور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنشن کی ادائیگی بھی یونیورسٹی پر ایک بڑا مالی بوجھ ہے، اس لیے سندھ حکومت مہران یونیورسٹی کے پنشن انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کرے، کیونکہ صوبے کی دیگر سرکاری جامعات کو بھی اس سلسلے میں حکومت کی مدد حاصل ہے۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کیمپس خیرپور میرس کے اخراجات میں جامشورو کیمپس مالی معاونت کر رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر طحہٰ حسین علی نے کہا کہ مہران یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اور سائبر سکیورٹی کا مرکز قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اسے جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی کوشش ہے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا محور و مرکز طلبہ ہوں۔ طلبہ صنعتی اداروں اور صنعتی فورمز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جبکہ مہران یونیورسٹی کے کسی بھی طالب علم کو صنعتی اداروں اور کمپنیوں میں انٹرن شپ مکمل کیے بغیر ڈگری جاری نہیں کی جاتی۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ مہران یونیورسٹی شمسی توانائی پر چل رہی ہے، تاہم شمسی توانائی کے منصوبے میں مزید توسیع کی ضرورت ہے تاکہ یونیورسٹی کو مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ہر سرگرمی میں ماحول دوست اقدامات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے چیف سیکریٹری سندھ سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کو شمسی توانائی سے چلنے والی دس شٹل بسیں فراہم کی جائیں، جو کیمپس کے اندر طلبہ کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مہران یونیورسٹی ٹیکنالوجی پارک قائم کیا جائے گا۔ یونیورسٹی سائٹ ایریا حیدرآباد میں پیپلز یوتھ سکل امپروومنٹ سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے، جہاں مہران یونیورسٹی کی زمین موجود ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی تعاون درکار ہے تاکہ الیکٹریشن، سولر پینل ٹیکنیشن، آٹوکیڈ، موبائل ریپئرنگ، مکینیکل، پلمبرنگ اور دیگر فنی شعبوں میں کورسز کروائے جا سکیں۔ ان کورسز کے ذریعے ہنرمند افرادی قوت تیار کرکے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، جس سے بے روزگاری میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

پروفیسر ڈاکٹر طحہٰ حسین علی نے بتایا کہ مہران یونیورسٹی نے سپین کی ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت کمپنی 30سال تک گرانٹ فراہم کرے گی۔ اس تعاون سے یونیورسٹی کی لیبارٹریوں کو مزید مضبوط اور جدید بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کیمپس خیرپور میرس میں بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات کی مرمت اور تعمیرِ نو کے لیے بھی منصوبے کی منظوری دینے کا مطالبہ کیا، تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ مہران یونیورسٹی میں طالبات کے داخلوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیشِ نظر طالبات کے لیے سہولیات میں مزید بہتری لانا ضروری ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ کے ہمراہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ محمد عباس بلوچ، کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی، ڈی آئی جی حیدرآباد طارق دھاریجو اور ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر قادری بھی موجود تھے۔ مہران یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ورکس اینڈ سٹریٹجک پلاننگ صغیر احمد میمن نے چیف سیکریٹری سندھ کو یونیورسٹی میں مکمل ہونے والے اور جاری ترقیاتی منصوبوں، بشمول گرلز ہاسٹل، بوائز ہاسٹل اور کھیلوں کی سہولیات کے لیے جاری تعمیراتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر مہران یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیل کمار، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ پیرزادہ، مختلف ڈینز، واٹر سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر کامران انصاری اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

مزید خبریں