وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی میگا اور اے آئی آئی بی کی قیادت سے ملاقاتیں، پاکستان کا خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، کیپٹل مارکیٹس تک رسائی اور انفراسٹرکچر فنانسنگ کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون بڑھانے پر زور
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی میگا اور اے آئی آئی بی کی قیادت سے ملاقاتیں، پاکستان کا خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، کیپٹل مارکیٹس تک رسائی اور انفراسٹرکچر فنانسنگ کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون بڑھانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی، مالی معاونت کی لاگت میں کمی، توانائی اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری اور مالی وسائل کے حصول کے ذرائع میں تنوع کو معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور کریڈٹ پروفائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی معاونت اور ضمانتی سہولیات کی شرائط مرتب کریں، سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، طویل المدتی فنانسنگ کے فروغ، قرضوں کی ری فنانسنگ سے وابستہ خطرات میں کمی اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے مالی وسائل کے حصول میں معاونت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے ان خیالات کااظہار بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی میگا کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموتو اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر زو جیائی سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کیا۔ ملاقاتوں میں پاکستان کے لئے مالی معاونت، سرمایہ کاری کی ضمانتوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ریلوے کی جدیدکاری، کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے مالی وسائل کے حصول اور معاشی استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میگا کے منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے لئے مالی معاونت اور ضمانتی سہولیات کی شرائط کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ان میں ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی کی عکاسی ہونی چاہئے۔ انہوں نے میگا کی جانب سے مالی معاونت کی لاگت سے متعلق شرائط پر نظرثانی اور معاملے کو بورڈ کی منظوری اور ضروری دستاویزی کارروائی کے لئے آگے بڑھانے کے اقدام کو سراہا۔ملاقات میں آبی توانائی کے منصوبے سے متعلق برطانیہ کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس معاملے میں آئندہ پیشرفت عدالت کے فیصلے پر منحصر ہوگی۔
اے آئی آئی بی کی صدر زو جیائی سے ملاقات میں بنیادی ڈھانچہ کی فنانسنگ، بجلی کی ترسیل کے نظام میں بہتری، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری اور کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے مالی وسائل کے حصول میں معاونت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ملاقات میں بجلی کی ترسیل کے منصوبوں اور ریلوے کی جدیدکاری کو پاکستان کی ترجیحی ضروریات میں شامل قرار دیا گیا جبکہ اے آئی آئی بی کی جانب سے رواں سال کے اختتام سے قبل بجلی کی ترسیل کے منصوبے کی منظوری کے ہدف پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں کراچی-روہڑی سیکشن پر مشتمل ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مشترکہ مالی معاونت اور منصوبے کے دیگر حصوں کے لئے متوازی فنانسنگ کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کثیر سالہ قرضہ جاتی پروگراموں، ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد اور سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔فریقین نے توانائی اور غذائی تحفظ سے متعلق دبائو سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بجٹ معاونت اور موسمیاتی ترجیحات سے منسلک پالیسی فنانسنگ کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس ضمن میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور معاشی استحکام کے لئے قابل عمل مالیاتی انتظامات اور طویل المدتی معاونت کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پانڈا بانڈ کے لئے ضمانت کی فراہمی میں اے آئی آئی بی کے تعاون کو سراہتے ہوئے مالی معاونت کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور قرضوں کی ری فنانسنگ سے وابستہ خطرات کم کرنے کے لئے پاکستان کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مستقبل میں کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے مالی وسائل کے حصول میں معاونت کے لئے اے آئی آئی بی کی آمادگی کا خیرمقدم کیا اور یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن کے حوالے سے تکنیکی تعاون کے امکانات کو بھی سراہا۔
ملاقاتوں میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں کی تکمیل، سرمایہ کاری کے فروغ، مالیاتی خطرات کے بہتر انتظام اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔







