پاکستان مہنگے قرضوں کے بجائے کم لاگت مالی وسائل کے حصول کے لیے مالی معاونت میں تنوع لا رہا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا سرمایہ کاری سیمینار سے خطاب

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا سرمایہ کاری سیمینار سے خطاب

بنکاک۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم بڑھائے بغیر بین الاقوامی ذرائع سے مالی معاونت کے راستے متنوع بنا رہا ہے اور مہنگے قرضوں کے بجائے نسبتاً کم لاگت کے مالی وسائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر بنکاک میں جے پی مورگن کے سرمایہ کاری سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

’’پاکستان: غیر یقینی عالمی معاشی حالات میں استحکام کی جانب سفر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں وزیرخزانہ نے ملکی معیشت کی صورت حال، بیرونی شعبے میں بہتری اور مالیاتی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط مضبوط بنانے اور مسلسل بنیادی مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور جاری کھاتے کے خسارے کو محدود رکھنے سے بیرونی شعبے میں استحکام آیا ہے۔بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے عالمی معاشی غیر یقینی صورت حال میں بیرونی وسائل کے مؤثر استعمال اور کم لاگت مالی معاونت کے حصول کے لیے جاری کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھنے اور ساختی اصلاحات آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محتاط زری پالیسی کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے مستحق گھرانوں کو ہدفی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے توانائی کے حصول اور خریداری میں محتاط حکمت عملی اپنانے اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی رابطہ کاری بہتر بنانے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں شراکت داری مضبوط کرنا بھی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

مزید خبریں