مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور کی ایل آر ایچ آمد،سکول حادثے میں جاں بحق بچوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور کی ایل آر ایچ آمد،سکول حادثے میں جاں بحق بچوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار

مزید خبریں
پشاور۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ)پشاور کا دورہ کیا اور دیر کالونی میں نجی سکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے ملاقات کرکے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔اس موقع پر ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا اس عظیم سانحے میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے اور غم کی اس گھڑی میں بچوں کے والدین اور اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی، حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد اور معاونت یقینی بنائے گی۔
مشیر اطلاعات نے بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کے اہلکار موقع پر موجود ہیں اور متاثرہ بچوں کے والدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جاں بحق بچوں کی میتیں والدین کی سہولت اور خواہش کے مطابق ترتیب وار ان کے حوالے کی جائیں گی، قانونی کارروائی کے دوران ایسا طریقۂ کار اپنایا جا رہا ہے جس سے سوگوار خاندانوں کو کم سے کم تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں کسی بھی تبدیلی سے عوام کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ایمبولینسوں اور مریضوں کی آمدورفت کے لیے راستے کھلے رکھیں اور ہسپتال میں غیر ضروری رش لگانے سے گریز کریں تاکہ امدادی سرگرمیوں اور طبی خدمات میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔دریں اثنا، گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے بھی دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے سوگوار والدین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے شہید بچوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو فوری طبی امداد اور بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے زخمی بچوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔








