بلوچستان میں زرعی ترقی، معیاری خوراک اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، میر ظہور احمد بلیدی

صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے خوراک بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ خالص، محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے

کوئٹہ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے خوراک بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ خالص، محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت خوراک کے معیار اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر بلوچستان ایگریکلچر کالج، بلیلی روڈ کوئٹہ میں منعقدہ پہلی بلوچستان فوڈ ایگزیبیشن 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے فیتہ کاٹ کر دو روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف زرعی مصنوعات کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کا بیشتر حصہ خشک اور کم بارشوں والے خطے پر مشتمل ہے، تاہم صوبے کے متعدد علاقے اپنی زرعی پیداوار کے باعث فوڈ باسکٹ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔زراعت کے شعبے میں مزید پیش رفت کے لیے پانی کے وسائل کا مؤثر استعمال، آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں زرعی ترقی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور زمینداروں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔

صوبے میں بھیڑ بکریوں سمیت مویشیوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے، جبکہ طویل ساحلی پٹی اور وسیع سمندری حدود ماہی گیری کے شعبے کی ترقی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہےانہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ زمینداروں اور کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور طریقوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم، زیرِ زمین پانی کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر کو محفوظ اور زرعی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں زرعی اور آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے۔ اس موقع پر ایف او اے کے نمائندے ولید مہدی نے کہا کہ بلوچستان میں یہ پہلی فوڈ ایگزیبیشن 2026 کا اہتمام اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت FAOنے بلوچستان ریور بیسنز واٹرریسورسزپروگرامRBWRPکے تحت کیا ہے۔ اور یہ تقریب 15 اور 16 اکتوبر تک جاری رہے گئ انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد زرعی شعبے سے وابستہ چھوٹے کاروباری اداروں، کسانوں اور کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور کاروباری روابط کے فروغ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

تقریب میں متعلقہ محکموں اور شعبہ زراعت سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کی نمائشیں بلوچستان کی زرعی معیشت کو مستحکم کرنے، چھوٹے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی اور مقامی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔تقریب سے اسدی بتول چیف آرگنائزر قادق اغا و دگر اور مقررین نے بھی خطاب کیا۔