کوئٹہ۔ 16 اکتوبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کیلئے زیادہ موزوں خطہ ہے، زراعت اور مالداری یہاں کے عوام کے اہم معاشی ذرائع ہیں، بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کو جدید سائنسی خطوط پر …
بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زراعت اور لائیواسٹاک کیلئے زیادہ موزوں ،صوبہ پاکستان کی غذائی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتاہے،گورنر بلوچستان

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 16 اکتوبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کیلئے زیادہ موزوں خطہ ہے، زراعت اور مالداری یہاں کے عوام کے اہم معاشی ذرائع ہیں، بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے اور مقامی کاشتکاروں، مالداروں اور ماہی گیروں کو جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کی جائے، پاکستان خاص کر بلوچستان کے میوہ جات اور غذائی مصنوعات معیار، ذائقے اور قدرتی خصوصیات کے اعتبار سے انٹرنیشنل سطح پر زیادہ پسند کیے جاتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ انہیں بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کرایا جائے تاکہ مقامی معیشت مضبوط ہو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
یہ بات انہوں نے ورلڈ فوڈ ڈے کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقدہ اور پہلی بلوچستان فوڈ نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ایف اے او کے سب آفیس کے ہیڈ ولید مہدی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، زرعی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شہنشاہ خان سمیت زراعت کے ماہرین اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ انٹرنیشنل فوڈ ڈے کی تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا آج پہلی بلوچستان فوڈ نمائش 2026 کے افتتاح اور عالمی یومِ خوراک کی تقریب، ان دو اہم مواقع پر آپ کے درمیان موجود ہونا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ بلوچستان بنیادی طور پر مالداری اور گلہ بانی کا خطہ ہے، جہاں وسیع چراگاہیں موجود ہیں اور لائیو اسٹاک کی پیداوار اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کے بے پناہ امکانات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لائیو اسٹاک کا شعبہ دیہی معیشت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔
ژوب ڈویژن، اپنی وسیع مون سون چراگاہوں اور مال مویشی کے قیمتی وسائل کے ساتھ، ہمارے صوبے کی اس صلاحیت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ صرف اس ڈویژن کے مویشی سعودی عرب میں تقریبا 25 لاکھ حجاجِ کرام کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں مالداری کے روایتی طریقوں کو ایک جدید، پیداواری اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنا ہونا ہوگا ۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ اسی طرح گوادر اور مکران کی طویل ساحلی پٹی پائیدار ماہی گیری، سمندری خوراک کی پراسیسنگ، آبی زراعت اور سمندر سے وابستہ صنعتوں کیلئے بےپناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ہمارے ساحلی علاقوں کے لوگوں کو اس شعبے میں قیمتی تجربہ اور مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت بھی بلوچستان کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ ہمارا صوبہ اعلی معیار کے زیتون، سیب، انگور، چیری، انار اور کھجور سمیت مختلف اقسام کے پھلوں کیلئے مشہور ہے۔ لورالائی کے زیتون کا عالمی سطح پر ایک اعلی معیار ہے۔
ان مصنوعات میں ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ کولڈ اسٹوریج، جدید پیکیجنگ، فوڈ پراسیسنگ اور نقل و حمل کی سہولیات کو فروغ دے کر ہم فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ عالمی یومِ خوراک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اب بھی بھوک، غذائی قلت اور متوازن خوراک تک رسائی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں پہلی فوڈ نمائش محض زرعی مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ ایک ایسا موثر پلیٹ فارم ہے جو کاشتکاروں، محققین، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صارفین کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔
آج کی یہ نمائش ایک مستقل پلیٹ فارم کی شکل ضرور اختیار کریگی۔ اس کے لیے ایف اے او کے منتظمین، نمائش میں حصہ لینے والے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آج کی تقریب اور نمائش ہمارے صوبے اور پاکستان کیلئے نئی سرمایہ کاری اور عملی اقدامات کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔ آخر میں گورنر بلوچستان نے پہلی فوڈ نمائش 2026 میں لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔








