پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ قومی ٹیم ٹرائی نیشن سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی

پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ قومی ٹیم ٹرائی نیشن سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ ہماری توجہ آئندہ ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز ہے اور بیٹنگ و باؤلنگ کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، ہمارا مقصد کسی دوسری ٹیم کے انداز کی نقل کرنا نہیں بلکہ میچ جیتنا ہے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم …

راولپنڈی۔17اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ قومی ٹیم ٹرائی نیشن سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ ہماری توجہ آئندہ ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز ہے اور بیٹنگ و باؤلنگ کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، ہمارا مقصد کسی دوسری ٹیم کے انداز کی نقل کرنا نہیں بلکہ میچ جیتنا ہے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹرائی نیشن ون ڈے سیریز کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ ٹی 20 سیریز میں اچھی کرکٹ کھیلی۔ گزشتہ چار ون ڈے سیریز میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے امتزاج سے ٹیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ایسی وکٹیں تیار کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جو فاسٹ باؤلرز کے لیے مددگار ہوں اور ٹیم جنوبی افریقہ اور انگلینڈ میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان علی آغا مضبوط کردار کے مالک کھلاڑی ہیں، حال ہی میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹرپل سنچری بھی اسکور کی، ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں واپسی پر بطور کپتان مطمئن ہوں۔ شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ٹیم میں متبادل کھلاڑیوں کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کسی کھلاڑی کے انجرڈ ہونے کی صورت میں اس کی جگہ دوسرا کھلاڑی ذمہ داری سنبھال سکے۔ رضا اللہ کو موقع ملا تو انہوں نے اپنی کارکردگی سے اسے درست ثابت کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مرحلہ وار ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ سینئرز کی رہنمائی میں بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ بابر اعظم کے حوالے سے قومی کپتان نے کہا کہ وہ پاکستان کے اہم ترین کھلاڑی اور بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ وہ پانچ سال ون ڈے ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں، ان سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر آئے ہیں اور پاکستان کے لیے رنز بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بیٹنگ آرڈر تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اگر وکٹ 300 رنز کا تقاضا کرے تو ٹیم اس ہدف تک پہنچنے کی کوشش کرے گی جبکہ ٹیم 350 یا 400 رنز کا ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صائم ایوب کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ اگرچہ انہیں ٹی 20 کرکٹ میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم ون ڈے کرکٹ میں ان کی باؤلنگ ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تین یا چار فاسٹ باؤلرز کے ساتھ کھیلتے ہوئے صائم ایوب جیسے کھلاڑی کی باؤلنگ کار آمد ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم متحد ہے اور تمام کھلاڑیوں کا مشترکہ ہدف ورلڈ کپ جیتنا ہے، میڈیا کو بھی ٹیم کے حوالے سے مثبت پیغام عوام تک پہنچانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ میدان میں بھرپور جذبے کے ساتھ کھیلیں، میچ جیتیں اور شائقین کو خوشیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین ہوم ون ڈے سیریز جیتی ہیں اور آئندہ بھی اچھی کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ون ڈے اسکواڈ میں شامل تینوں نئے کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ رکھتے ہیں، امید ہے کہ وہ سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ شاہین آفریدی نے کہا کہ بطور کھلاڑی ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کو کامیابی حاصل ہو۔

مزید خبریں