پاکستان کی کم آمدن والی 80 فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے، رپورٹ
پاکستان کی کم آمدن والی 80 فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے،جس کو مختلف سماجی اور معاشی خطرات کا سامنا ہے ۔ ملک کا متمول طبقہ اپنی آمدنی کا تقریباٌ 20 تا 30 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے جبکہ دوسری جانب متوسط اور غریب طبقات کی ایک بڑی تعداد اپنی مجموعی آمدن کا 70 سے 80 فیصد حصہ خوراک کی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کر تی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوںمیں اضافہ کے سبب یہ طبقات زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ ، افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے اے پی)کے خطے میں غربت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی تاہم 2019 میں یہ پیش رفت متاثر ہوئی کیونکہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے بعد غربت کی شرح میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2024 میں خطے کی 14.3 فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی تین ڈالر سے کم تھی جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 10.4 فیصد تھی۔ مزید برآں ایم ای این اے اے پی کے ممالک میں 26.9 فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی 4.20 ڈالر تھی جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح 18.9 فیصد تھی۔
عالمی بینک نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ غربت کی شرح کے منفی رجحانات 2026 میں برقرار رہ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں کمی اور وسائل آمدن کے فروغ کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے متعدد منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے تاکہ معاشرہ کے کم آمدنی والے طبقات کی آمدنی میں اضافہ کو یقینی بنایا جا سکے۔








