امریکا میں خسرے سے متاثرہ افراد کی تعداد 4,400 سے تجاوز کر گئی
امریکا میں خسرے سے متاثرہ افراد کی تعداد 4,400 سے تجاوز کر گئی

مزید خبریں
لاس اینجلس۔18اکتوبر (اے پی پی):امریکا میں خسرے سے متاثرہ افراد کی تعداد 4,400 سے تجاوز کر گئی جبکہ ریاست پنسلوانیا میں وبا کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ شنہوا نے امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے حوالے سے بتایا کہ امریکا میں خسرے کے 4,410 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ تعداد 2025 میں رپورٹ ہونے والے کل 2,289 کیسز کے مقابلے میں تقریباً دوگناہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں اس سال خسرے کے کیسز کی تعداد 1991 کے بعد سب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
سی ڈی سی (CDC) کے مطابق، ان تصدیق شدہ کیسز میں سے 4,392 کیسز 47 مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوئے، جبکہ 18 کیسز امریکا آنے والے بین الاقوامی سیاحوں میں پائے گئے۔متاثرین میں سب سے بڑی تعداد 5 سے 19 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ہے جو کل متاثرہ افراد کا 42 فیصد یعنی 1,856 ہے۔کل 451 مریضوں، یعنی تمام تصدیق شدہ کیسز کے تقریباً 10 فیصد کو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 96 فیصد کیسز ایسے افراد میں سامنے آئے جنہیں ویکسین نہیں لگی تھی یا جن کی ویکسی نیشن کی حیثیت معلوم نہیں تھی۔
دریں اثنا، امریکی ریاست پنسلوانیا میں خسرے کی وبا پھیلتی جا رہی ہے۔ پنسلوانیا کے محکمہ صحت نے بتایا کہ اس سال اب تک ریاست کی 43 کاؤنٹیوں میں خسرے کے 1,260 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 238 مریضوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا اور خسرے کی وجہ سے 5 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ریاست میں 38 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ فرینکلن کاؤنٹی میں حال ہی میں ہونے والی ایک موت کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ سی ڈی سی اس وبا سے نمٹنے میں مدد کے لیے اپنے ایک سائنسدان کو پنسلوانیا بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سی ڈی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارہ پنسلوانیا کے محکمہ صحت کے حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، تاکہ اس وبا سے نمٹنے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے درکار مہارت اور معاونت فراہم کی جا سکے۔سی ڈی سی کی جانب سے خسرہ ، کن پیڑے اور روبیلا سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی دو خوراکیں لینے کی سفارش کی گئی ہے، جو خسرے کے خلاف بہترین تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جب کسی کمیونٹی میں 95 فیصد سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہو، تو ’کمیونٹی امیونٹی جسے ’ہرڈ امیونٹی‘ یا اجتماعی قوتِ مدافعت بھی کہا جاتا ہے، پیدا ہوتی ہے، جو مزید لوگوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔








