راولپنڈی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی اینڈ ریسپانس کمیٹی برائے انسداد ڈینگی کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر کمپلیکس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ای او ہیلتھ، متعلقہ محکموں کے افسران اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال، مریضوں کی اسکریننگ، لاروا سرویلنس، فیلڈ سرگرمیوں، ہاٹ اسپاٹس کی نگرانی اور ڈینگی رسپانس رپورٹس کا تفصیلی …
راولپنڈی میں انسداد ڈینگی مہم جاری، رواں سال اب تک 65 کیسز رپورٹ

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):راولپنڈی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی اینڈ ریسپانس کمیٹی برائے انسداد ڈینگی کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر کمپلیکس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ای او ہیلتھ، متعلقہ محکموں کے افسران اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال، مریضوں کی اسکریننگ، لاروا سرویلنس، فیلڈ سرگرمیوں، ہاٹ اسپاٹس کی نگرانی اور ڈینگی رسپانس رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 21 اکتوبر 2026 کی شام تک راولپنڈی ضلع میں ڈینگی کے 65 کیسز کی تصدیق ہو ئی ہے جوکہ پچھلے سالوں سے بہت کم ہے، جبکہ مریضوں کی اسکریننگ کے دوران مجموعی طور پر 5,446 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
ضلع بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے اور لاروا کی بروقت نشاندہی و تلفی کے لیے انڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس سرگرمیاں جاری ہیں۔بریفنگ کے مطابق رواں سال اب تک ضلع بھر میں 56 لاکھ 83 ہزار سے زائد گھروں کی چیکنگ کی گئی، جبکہ تقریباً 19 لاکھ 63 ہزار مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ سرویلنس کے دوران لاروا کی نشاندہی ہونے پر متعلقہ مقامات پر انسداد ڈینگی اقدامات کیے گئے تاکہ مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔اجلاس میں 12 سے 20 اکتوبر کے دوران ڈینگی لاروا سے متعلق رسپانس سرگرمیوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 14,247 رسپانس سرگرمیوں میں سے 14,206 مکمل کی جا چکی ہیں۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ زیر التوا کارروائیوں کو فوری مکمل کیا جائے اور ہر سرگرمی کی بروقت تکمیل اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں ہاٹ اسپاٹس کے گردونواح میں سرویلنس، حساس یونین کونسلوں میں صفائی ستھرائی، قبرستانوں اور کھلی جگہوں کی صفائی، نالوں کی ڈی سلٹنگ اور عوامی آگاہی مہم کا بھی جائزہ لیا گیا۔








