گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے پر عملدرآمد جاری، 499 سرکاری عمارتیں بھی سولر سسٹم سے مستفید ہوں گی

گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پی ایس ڈی پی کی معاونت سے 100 میگاواٹ کا شمسی توانائی منصوبہ پاور ڈویژن کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں 82 میگاواٹ کے بڑے سولر تنصیبات، 499 سرکاری عمارتوں پر مجموعی طور پر 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز اور بیٹری انرجی اسٹوریج کی سہولت شامل ہے۔

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پی ایس ڈی پی کی معاونت سے 100 میگاواٹ کا شمسی توانائی منصوبہ پاور ڈویژن کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں 82 میگاواٹ کے بڑے سولر تنصیبات، 499 سرکاری عمارتوں پر مجموعی طور پر 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز اور بیٹری انرجی اسٹوریج کی سہولت شامل ہے۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق منصوبے کے ابتدائی مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ بڑے سولر تنصیبات کے لیے چار مقامات بھی متعین کیے جا چکے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی گلگت بلتستان کے ترقیاتی امور کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ علاقے میں ترقیاتی عمل تیز کرنے کے لیے قابل عمل سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

منصوبے میں شمسی توانائی کی پیداوار کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج کی سہولت بھی شامل ہے، جس کا مقصد بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا اور علاقے کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دینا ہے۔یہ منصوبہ گلگت بلتستان میں قابل تجدید توانائی کے فروغ، سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے استعمال اور علاقے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوگا۔