چین نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کا براہِ راست اور موثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ہے، امن کے فروغ کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندہ فو کونگ نے گزشتہ روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں کہا کہ چین تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ تنازعات میں اقوام متحدہ …
بچوں کے تحفظ کا براہِ راست اور موثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ہے،چینی مندوب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔27اکتوبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کا براہِ راست اور موثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ہے، امن کے فروغ کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندہ فو کونگ نے گزشتہ روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں کہا کہ چین تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ تنازعات میں اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پابندی کریں، جنگ بندی کریں، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور شہریوں و شہری تنصیبات خصوصاً بچوں اور سکولوں پر حملوں سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور پر عمل درآمد کرنا چاہیے، اختلافات کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مناسب انداز میں حل کرنا چاہیے اور اہم مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد میں اضافہ کرنے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں تک رسائی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو بروقت ضروری امداد اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے اور خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، ہیٹی اور دیگر مقامات پر بچے تنازعات اور تشدد کی زد میں ہیں اور طویل عرصے سے سنگین خلاف ورزیوں اور خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین سلامتی کونسل کی جانب سے بچوں کے خلاف سنگین زیادتیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ضروری اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ وینیسا فریزر کی جانب سے ان کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کی حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے نگرانی اور رپورٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے ترقی بنیادی حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں متعلقہ ممالک کی حکومتوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ خوراک، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات کی ضمانت دے سکیں اور بچوں کی پرورش و نشوونما کے لیے ماحول کو بہتر بنا سکیں۔ اس طرح بچے جنگ کے سائے اور تشدد کے چکر سے آزاد ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے افریقی یونین (اے یو) کی جانب سے جینابا جینے کو مسلح تنازعات سے متاثرہ بچوں کے لیے پہلی خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
چین اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان قریبی تعاون کی حمایت بھی کرتا ہے تاکہ تنازعات سے متاثرہ ممالک بچوں کے تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بنا سکیں۔ چینی مندوب نے کہا کہ چین اپنی استطاعت کے مطابق ترقی پذیر ممالک بشمول افریقی ممالک کی مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر جنگیں ختم کرنے، حمایت اور امداد کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ دنیا بھر کے بچے امن اور استحکام کے ماحول میں صحت مند اور مضبوط پروان چڑھ سکیں اور ایک بہتر مستقبل تشکیل دے سکیں۔







