انگلینڈ کے نامور فٹبالر ہیری کین نے طویل انتظار کے بعد بیلن ڈی اور 2026 کا اعزاز جیت کر اپنے شاندار کیریئر میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرلیا۔ بی بی سی کے مطابق لندن کے تاریخی مقام پر منعقدہ تقریب میں ایوارڈ حاصل کرنے والے ہیری کین کی کامیابی برسوں کی محنت، مستقل مزاجی اور غیرمتزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔
ہیری کین کی طویل جدوجہد رنگ لے آئی، بیلن ڈی اور 2026 کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا

مزید خبریں
لندن۔27اکتوبر (اے پی پی):انگلینڈ کے نامور فٹبالر ہیری کین نے طویل انتظار کے بعد بیلن ڈی اور 2026 کا اعزاز جیت کر اپنے شاندار کیریئر میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرلیا۔ بی بی سی کے مطابق لندن کے تاریخی مقام پر منعقدہ تقریب میں ایوارڈ حاصل کرنے والے ہیری کین کی کامیابی برسوں کی محنت، مستقل مزاجی اور غیرمتزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔33 سالہ بائرن میونخ کے سٹرائیکر نے ایوارڈ کے لیے زیرِ غور مدت کے دوران 65 میچوں میں 73 گول سکور کیے۔ اس دوران انہوں نے بنڈس لیگا، ڈی ایف بی پوکل اور جرمن سپر کپ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ انگلینڈ کو فیفا ورلڈ کپ میں گزشتہ 60 سال کی بہترین تیسری پوزیشن تک پہنچانے میں بھی نمایاں رہے۔
ہیری کین نے عالمی کپ میں 6 گول کیے۔کین نے 2023 میں ٹوٹنہم ہاٹ پورسے تقریباً 120 ملین یورو کے عوض بائرن میونخ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جرمن کلب کی جانب سے وہ اب تک 156 میچوں میں 158 گول کرچکے ہیں، جو ان کی غیرمعمولی گول سکورنگ صلاحیت کا ثبوت ہے۔کین نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز ٹوٹنہم کی اکیڈمی سے کیا جبکہ ابتدائی برسوں میں لیٹن اورینٹ، مل وال، نورویچ سٹی اور لیسٹر سٹی کی جانب سے قرض پر بھی کھیلے۔
2014-15 کے سیزن میں انہوں نے ٹوٹنہم کی پہلی ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کی، انگلینڈ کی قومی ٹیم میں ڈیبیو کیا اور پی ایف اے ینگ پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ٹوٹنہم کی جانب سے ہیری کین نے 435 میچوں میں 280 گول سکور کیے اور انگلینڈ کی قومی ٹیم کے لیے وین رونی کا مجموعی گولوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ وہ قومی ٹیم کے لیے سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی پیٹر شلٹن کے 125 میچوں کے ریکارڈ کے قریب بھی پہنچ چکے ہیں۔ہیری کین نے 2017 میں فیفا کے بہترین فٹبالر کے ایوارڈ کی نامزدگیوں میں بھی جگہ بنائی تھی، تاہم وہ 24 کھلاڑیوں کی فہرست میں آخری نمبر پر رہے۔
تقریباً 9 سال بعد اسی نوعیت کی تقریب میں ان کی موجودگی اور اب بیلن ڈی اور جیتنا ان کے طویل سفر کی نمایاں کامیابی ہے۔ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ہیری کین نے ٹوٹنہم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کلب کے تعاون کے بغیر وہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ان کی کامیابی نوجوان فٹبالرز کے لیے محنت، صبر اور مستقل مزاجی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔








