بچوں کے استحصال کے مرتکب افراد کے خلاف موثر احتساب اور ڈیجیٹل نقصانات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات کئے جائیں ،پاکستان

بچوں کے استحصال کے مرتکب افراد کے خلاف موثر احتساب اور ڈیجیٹل نقصانات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات کئے جائیں ،پاکستان

اقوام متحدہ۔27اکتوبر (اے پی پی):دنیا بھر میں 2025 کے دوران بچوں کے خلاف 38 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کے بعد پاکستان نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مطالبہ کیا ہے کہ ان جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف موثر احتساب اور ڈیجیٹل نقصانات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات کئے جائیں تاکہ ان کی سلامتی اور روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندہ عثمان جدون نے گزشتہ روز’’بچے اور مسلح تنازعات‘‘ پرسلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جرائم کسی خلا میں نہیں ہو رہے بلکہ ان کے پیچھے گہرے مسائل کارفرما ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل میں بین الاقوامی انسانی قانون کو نظرانداز کرنا، بچوں کو بلاامتیاز نشانہ بنانا، بعض صورتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)سے مربوط ہتھیاروں کا استعمال، دنیا بھر میں تنازعات کا بڑھتا ہوا دائرہ اور متاثرین کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنے میں کثیرالجہتی سفارت کاری پر اعتماد کا بحران شامل ہیں۔ سلامتی کونسل کا 15 رکنی اجلاس اکتوبر کے لیے کونسل کی صدارت کرنے والے ملک یونان نے منعقد کیا۔ یہ اجلاس بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق خصوصی مینڈیٹ کے قیام کی 30ویں سالگرہ کی مناسبت سے بلایا گیا تھا۔ بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کا مینڈیٹ 1996 کی ایک اہم رپورٹ کے بعد جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا۔ اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ بچے اب جنگوں میں محض تماشائی نہیں رہے بلکہ انہیں براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب میں پاکستانی نمائندہ عثمان جدون نے بچوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق اقوام متحدہ کے مینڈیٹ (CAAC) کے ساتھ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستانی نمائندے نے نشاندہی کی کہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں بچوں کی حالت مزید تشویش ناک ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک سال کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بچوں کے خلاف قتل، معذوری اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات کی تصدیق کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار فلسطینی بچے مسلسل نفسیاتی صدمے سے دوچارہیں جبکہ دیگر بچے اعضا سے محروم ہونے اور ریڑھ کی ہڈی اور سر کی چوٹوں کا شکار ہیں۔

یہ صورتحال دل دہلا دینے والی ہے۔ بچوں کے حقوق کے کنونشن اور مسلح تنازعات میں بچوں کی شمولیت سے متعلق اس کے اختیاری پروٹوکول کے فریق کی حیثیت سے پاکستان ان دستاویزات کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان نے بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن کا قیام عمل میں لایا ہے اور ایک قومی رابطہ کار بھی مقرر کیا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں متعدد اقدامات پر زور دیا، جن میں مسلح تنازعات کے تمام فریقین کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کا مکمل احترام کرنا،بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے معاملات کا منصفانہ حل،اقوام متحدہ کے نظام کے تحت فوجی معیار کی مصنوعی ذہانت کے لیے جامع اور شمولیتی نظم و نسق کا قیام، نگرانی اور رپورٹنگ کے طریقہ کار (MRM) کے ذریعے بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق شدہ دستاویز بندی شامل ہیں۔

انہوں نے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی عدم مساوات ختم کرنے پر بھی زور دیا، جس کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے اور سستی انٹرنیٹ سہولیات کی فراہمی ضروری ہے خصوصاً بچوں اور معذوری کے شکار بچوں کو ترجیح دی جائے۔ پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے اقدامات اور حکمت عملیوں میں قومی سطح پر ذمہ داری قبول کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور مجرموں کوسزا دینے کے ذریعے (eliminating impunity) جوابدہی کے کلچر کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔