وزیرامور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا خواب ضرور پورا ہوگا ۔انہوں نے یہ بات منگل کو اسلام آباد ڈی چوک میں یوم سیاہ کشمیر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مہمان خصوصی تھے۔اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے فارن آفس سے ڈی چوک تک …
کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا خواب ضرور پورا ہوگا،تنازعہ کشمیر حل ہونے تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی، وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام اور غلام محمد صفی کا یوم سیاہ کشمیر کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیرامور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا خواب ضرور پورا ہوگا ۔انہوں نے یہ بات منگل کو اسلام آباد ڈی چوک میں یوم سیاہ کشمیر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مہمان خصوصی تھے۔اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے فارن آفس سے ڈی چوک تک واک کی گئی جس میں بڑی تعداد میں شرکاء موجود تھے۔وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا خواب ضرور پورا ہوگا۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد فارن آفس سے ڈی چوک تک کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے واک میں بھر پور شرکت کی ۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ یوم سیاہ کشمیر پر عوام کا جذبہ اور ولولہ قابلِ تحسین ہے، کشمیریوں کی آزادی کا جذبہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستانی قوم اور کشمیریوں کے جذبے میں مزید اضافہ ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مسئلہ کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینا ہے۔27 اکتوبر 1947ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو فوجیں اتار کر جموں و کشمیر پر قبضہ کیا۔وفاقی وزیر امور کشمیر نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی اور امنگوں کے خلاف جموں و کشمیر پر قبضہ کیا۔
آٹھ دہائیوں سے بھارتی مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبۂ آزادی ماند نہیں پڑا۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی جرأت اور بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں۔ 1989ء سے اب تک وہاں 97 ہزار کے قریب کشمیری شہید ہو ئے، بھارتی مظالم کے باعث ہزاروں کشمیری معذور، خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوئے ۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ایک لاکھ سےزیادہ مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں،بھارتی جیلوں میں بھی کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود کشمیریوں کے دلوں میں پاکستان سے محبت اور آزادی کا جذبہ زندہ ہے،کشمیری شہدا کی پاکستان کے پرچم میں تدفین کی خواہش ان کی پاکستان سے محبت کا ثبوت ہے۔مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے۔ عالمی برادری کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی فورمز پر کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی،پاکستان کی سیاسی قیادت نے اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر امور کشمیرنے کہا کہ افواج پاکستان کے جوانوں کا جذبہ اور بہادری قابل فخر ہے۔ معرکۂ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ معرکۂ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیری یومِ سیاہ منا کر بھارتی قبضے کی مذمت کر رہے ہیں۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستانی قوم متحد ہے۔ جب تک پاکستانی اور کشمیری زندہ ہیں، مسئلہ کشمیر زندہ رہے گا۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینا پڑے گا۔ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انجینئر امیر مقام نے یوم سیاہ کشمیر کی تقریب کے انعقاد میں کردار ادا کرنے والے تمام اداروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر فوجی قبضہ کیا، بھارت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر میں فوجی راج قائم کر رکھا ہے۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کو بے پناہ اختیارات دے کر کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔بھارتی قوانین کے تحت قابض فوج کو گرفتاریوں اور کارروائیوں کے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ بھارت نے کشمیری عوام کا حق خودارادیت تسلیم کرنے کے بعد اس سے انحراف کیا۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت بتائے کشمیری عوام نے کب اپنی مرضی سے اس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ بھارتی انتخابات میں شرکت کو حقِ خودارادیت کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ رائے شماری کا حق دیا جائے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ رائے شماری میں کشمیری عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے سے ہونا ہے۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کے وعدے سے انحراف کیا،6 نومبر 1947 کو جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کشمیری عوام کو آج بھی یاد ہے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، ہزاروں خواتین اپنے شوہروں کی شہادت یا گمشدگی کے باعث کرب ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ کیا گیا۔غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیریوں کے گھروں اور دکانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ظلم و جبر کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے حق سے دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔ بھارت کا یہ بیانیہ درست نہیں کہ مسئلہ کشمیر ختم ہو چکا ہے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کا دعویٰ کرتا ہے تو فوج واپس کیوں نہیں بلاتا؟ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، مسئلہ کشمیر حل ہونے تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیر کی وادیوں میں آج بھی آواز گونجتی ہے،’’ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘۔کشمیری عوام کے جذبۂ حقِ خودارادیت کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا،کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی بالآخر کامیاب ہوگی۔








