بلوچستان کے وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آ فریدی نے کہا ہے کہ نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے وکلاء کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، وکلاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آ فریدی نے کہا ہے کہ نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے وکلاء کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، وکلاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آ فریدی نے ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 51 وکلاء پر مشتمل وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مسلسل قانونی تعلیم کے تربیتی پروگرام میں شرکت کر رہا ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے صوبے کی مختلف بار ایسوسی ایشنز سے ان وکلاء کو تربیت کے لیے نامزد کیا تھا۔وفد میں کوئٹہ، تربت، خضدار، پشین، ژوب، چمن، قلات، سبی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے وکلاء شامل تھے۔ چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی کوششوں کو سراہا۔چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے مسلسل قانونی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ وکلاء کو چاہیے کہ وہ اپنی مہارتوں میں اضافے کے لیے مسلسل علم حاصل کریں، اعلیٰ اخلاقی معیارات کی پاسداری کریں اور تربیتی پروگرام کے دوران حاصل ہونے والے علم کو اپنی عملی قانونی پریکٹس میں بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام میں شریک وکلاء فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور پاکستان کی عدلیہ کے سفیر ہیں، اس لیے وہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والے علم اور تجربے کو دوسرے وکلاء تک بھی منتقل کریں تاکہ مجموعی طور پر قانونی برادری کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔چیف جسٹس نے وفد کو ملک بھر میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انصاف تک رسائی ترقیاتی فنڈ کے تحت ملک بھر میں عدالتی کمپلیکسز اور بار رومز میں بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں شمسی توانائی کے نظام، انٹرنیٹ سے منسلک الیکٹرانک لائبریریاں اور پینے کے صاف پانی کی سہولت شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالتی کمپلیکسز میں خواتین کے لیے مخصوص سہولیات کی فراہمی بھی اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے۔ عدالتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبے بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں تاہم تکنیکی مسائل کے باعث صرف چھ عدالتی کمپلیکسز میں کام باقی ہے۔چیف جسٹس نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ فراہم کردہ جدید سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے آن لائن تربیتی پروگرامز سے بھی استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال وکلاء کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں بہتری کے لیے اہم ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی عدالتوں کا فعال رہنا اور انصاف کی فراہمی جاری رکھنا عدالتی اداروں کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی کے لیے جوڈیشل افسران اور وکلاء کی ثابت قدمی اور خدمات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وکلاء اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرتے رہیں گے۔