وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزیراعظم کی قائم کردہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تنظیم نو سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت سمیڈا کی تنظیم نو سے متعلق کمیٹی کا اجلاس، سمیڈا کی تنظیم نو اور کاروباری سہولیات ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کا عزم

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزیراعظم کی قائم کردہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تنظیم نو سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادارے کو دوبارہ فعال بنانے، اس کی رسائی ملک بھر میں بڑھانے اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے مالی وسائل اور کاروباری سہولیات تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے ایس ایم ایز رانا عتیق، وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار احسان علی مانگی، وفاقی سیکریٹری تجارت جواد پال، سمیڈا بورڈ کے ممبران، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا نادیہ جے سیٹھ، ایڈیشنل سیکریٹری صنعت و پیداوار حمیرا ضیاء مفتی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ سمیڈا کئی سال تک غیر فعال رہا تاہم وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت ادارے کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمیڈا میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانے اور قومی معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔مشیر برائے صنعت و پیداوار نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ سمیڈا کی رسائی مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں تک وسیع کی جائے جبکہ خواتین کاروباری افراد اور دیہی و پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے کاروباروں پر خصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ مالی وسائل تک رسائی، کاروباری مشاورت اور ادارہ جاتی معاونت چھوٹے کاروباری افراد تک نچلی سطح پر پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سمیڈا کی خدمات ملک کے دور دراز دیہی علاقوں اور چھوٹی آبادیوں تک پہنچانا ہے تاکہ ہر علاقے کے خواہش مند کاروباری افراد حکومتی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ رانا عتیق کی بطور کوآرڈینیٹر برائے ایس ایم ایز تعیناتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے کے لیے رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور معاونت بہتر کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے سمیڈا کی تنظیمِ نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی غرض سے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سمیڈا کے بورڈ ممبران کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ادارے کے تجربات، تجاویز اور آراء کی روشنی میں مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی منصوبہ تیار کیا جا سکے۔مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم نو کے عمل میں ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، ملک بھر میں اس کی رسائی بڑھانے اور خدمات کے معیار اور دستیابی کو موثر بنانے پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا کو ایک ایسا فعال اور موثر ادارہ بنایا جانا چاہیے جو کاروباری افراد کے عملی مسائل حل کرنے اور ان کے کاروبار کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہو۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سمیڈا کی تنظیم نو کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار اور کامیاب ادارہ جاتی ماڈلز کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کے معاشی اور کاروباری ماحول سے ہم آہنگ ایک جامع اور قابل عمل منصوبہ تیار کیا جا سکے۔کمیٹی سمیڈا کی تنظیم نو سے متعلق اپنی تجاویز اور منصوبہ چار ہفتوں کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔شعبے کی معاشی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کے مجموعی کاروباری اداروں کا تقریباً 99 فیصد ہیں اور روزگار کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ملک کی تقریباً 78 فیصد افرادی قوت کے روزگار کا تعلق اس شعبے سے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کو مضبوط بنانا روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، معاشی مواقع بڑھانے اور جامع معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سمیڈا کو ایک زیادہ موثر، قابل رسائی اور عوامی ضروریات کے مطابق کام کرنے والا ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہے جو کاروباری افراد کو سہولیات فراہم کرنے، مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے اور ملک بھر میں کاروباری ترقی کو فروغ دینے میں موثر کردار ادا کرے گا۔








