صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے منشیات کے خاتمے اور روک تھام کے لیے کارروائیاں مزید سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں پوست کی کاشت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
بلوچستان میں پوست کی کاشت ناقابلِ برداشت، ملوث عناصر کی زمینیں بھی ضبط کی جائیں گی، میر ضیا اللہ لانگو

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے منشیات کے خاتمے اور روک تھام کے لیے کارروائیاں مزید سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں پوست کی کاشت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منشیات کے خاتمے اور روک تھام سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)کے اعلیٰ افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں پوست کی کاشت کے خاتمے، منشیات کی روک تھام اور اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں پوست کی کاشت تلف کرنے کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے اور منشیات کی کاشت و کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوست کی کاشت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے ساتھ ان کی زمین بھی قبضے میں لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ منشیات نوجوان نسل اور معاشرے کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اس لیے ان کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کو مربوط اور مثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مستقبل کو تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور منشیات کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔میر ضیا اللہ لانگو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے سے منشیات کے خاتمے اور عوام کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔








