یمن کے شہر طائز میں لڑائی کے باعث تمام راستے بند، اقوام متحدہ کا ہنگامی امداد کی فراہمی کے لیے رسائی کا مطالبہ

یمن کے شہر طائز میں جاری لڑائی کے باعث داخلے کے تمام راستے بند ہونے پر اقوام متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ آبادی تک ہنگامی انسانی امداد کی فوری رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے پیر کو بتایا کہ شہر میں طبی سامان کی قلت اور رسائی محدود ہونے …

اقوام متحدہ ۔3نومبر (اے پی پی):یمن کے شہر طائز میں جاری لڑائی کے باعث داخلے کے تمام راستے بند ہونے پر اقوام متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ آبادی تک ہنگامی انسانی امداد کی فوری رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے پیر کو بتایا کہ شہر میں طبی سامان کی قلت اور رسائی محدود ہونے کے باعث صحت کی سہولیات کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ صورتحال کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں، جن میں پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد بچے اور 23 ہزار حاملہ خواتین شامل ہیں۔

او سی ایچ اے کے مطابق ایندھن اور ضروری طبی سامان کی عدم دستیابی کے باعث 12 ہسپتال بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں یا انہیں اپنی خدمات محدود کرنا پڑ رہی ہیں۔ صرف ایک ہفتے کے دوران شدید اسہال اور مشتبہ ہیضے کے ایک ہزار 400 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے یمن کی وزیر خارجہ افراح عبدالعزیز صالح الزوبا سے رابطہ کیا اور طائز میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران، شہریوں کی نقل مکانی، امدادی ضروریات میں اضافے اور متاثرین تک فوری امداد پہنچانے کے لیے رسائی کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ادارے کے مطابق اگست کے آغاز سے، جب تازہ لڑائی دوبارہ شروع ہوئی، تقریباً تین لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یمن میں حالیہ کشیدگی سے قبل بھی 3 کروڑ 50 لاکھ کی مجموعی آبادی میں سے 52 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے تھے۔

انسانی امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں اپنی رسائی کے مطابق امدادی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں اور اب تک دو لاکھ 54 ہزار سے زائد بے گھر افراد کو خوراک، حفظان صحت کا سامان اور ہنگامی نقد امداد فراہم کی جا چکی ہے۔او سی ایچ اے نے مزید بتایا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر 90 روزہ ہنگامی منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد زندگی بچانے والی طبی خدمات جاری رکھنا، متاثرہ طبی سہولیات بحال کرنا اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ اگست کے آغاز سے اب تک شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے 272 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں 68 افراد جاں بحق اور 204 زخمی ہوئے۔ ان متاثرین میں بچوں کا تناسب 40 فیصد ہے۔اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائیں، بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور طائز سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی کی اجازت دیں۔