دھوکہ دہی کا الزام لگانے سے ڈگری ختم نہیں ہو سکتی، تین سالہ مدت میں درخواست دائر کرنا ضروری ہے، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر عدالتی ڈگری چیلنج کرنے کے لیے تین سال کی مدت مقرر ہے، دھوکہ دہی کا علم دیر سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے فریق کو اس حوالے سے واضح شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے۔وفاقی آئینی عدالت نے میرپورخاص میں سرکاری اسکول …

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر عدالتی ڈگری چیلنج کرنے کے لیے تین سال کی مدت مقرر ہے، دھوکہ دہی کا علم دیر سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے فریق کو اس حوالے سے واضح شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے۔وفاقی آئینی عدالت نے میرپورخاص میں سرکاری اسکول کی عمارت پر سندھ حکومت کی ملکیت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے 1980ء کی رضامندی کی ڈگری کے خلاف 33 سال سے زائد عرصے بعد دائر درخواست خارج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ محض دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے الزامات عائد کرنے سے ہر مقدمے میں شہادتیں ریکارڈ کرنا لازمی نہیں ہو جاتا، عدالت دستیاب دستاویزی ریکارڈ کی بنیاد پر بھی درخواست کا فیصلہ کر سکتی ہے۔فیصلے کے مطابق میرپورخاص کی متنازعہ عمارت سے متعلق 1925ء اور 1932ء کی سرکاری قراردادیں حکومت کی ملکیت ثابت نہیں کرتیں۔ ان دستاویزات میں تعلیمی ادارے کے انتظام اور نئی عمارت کی تعمیر کا ذکر ہے، تاہم جائیداد کے سرکاری حصول یا ملکیت کی منتقلی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ 1928ء کے سرکاری اسناد، 1934ء کے رجسٹرڈ معاہدے اور 1942ء کے رجسٹرڈ بیع نامے سے نجی ملکیت اور جائیداد کی قانونی منتقلی ثابت ہوتی ہے۔ سرکاری سکول کا عمارت میں قائم ہونا بھی حکومتی ملکیت کا ثبوت نہیں کیونکہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت کرایے پر حاصل کی گئی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ 1961ء میں ایک سابقہ عدالتی فیصلے میں بھی عمارت کا مالک نجی شخص کو قرار دیا گیا تھا جبکہ حکومت اس مقدمے میں فریق تھی۔ مذکورہ فیصلے کو کسی اپیل میں چیلنج کرنے یا کالعدم قرار دیے جانے کا ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سندھ حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام کو کم از کم 1995ء میں 1979ء کے تقسیمِ جائیداد کے مقدمے اور ملکیت کی تبدیلی کا علم تھا، اس کے باوجود 2013ء میں درخواست دائر کی گئی، لہٰذا دھوکہ دہی کا علم 2013ء میں ہونے کا مؤقف قابل قبول نہیں۔عدالت نے سندھ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ جج میرپورخاص کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا، جس کے تحت محکمہ تعلیم کے حکام کی جانب سے 1980ء کی ڈگری ختم کرانے کے لیے دائر درخواست خارج کی گئی تھی۔