سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کا طرزِ عمل صرف دفتری فرائض تک محدود نہیں، نجی زندگی میں ایسا سنگین طرزِ عمل جو سرکاری عہدے کے وقار، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو متاثر کرے، محکمانہ کارروائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔جسٹس شاہد وحید نے تحریری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ خاتون کی عزت و وقار کا تحفظ آئینی تقاضا ہے، سرکاری ملازمین …
سرکاری ملازم کا نجی زندگی میں سنگین غیر اخلاقی طرزِ عمل بھی محکمانہ کارروائی کی بنیاد بن سکتا ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کا طرزِ عمل صرف دفتری فرائض تک محدود نہیں، نجی زندگی میں ایسا سنگین طرزِ عمل جو سرکاری عہدے کے وقار، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو متاثر کرے، محکمانہ کارروائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔جسٹس شاہد وحید نے تحریری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ خاتون کی عزت و وقار کا تحفظ آئینی تقاضا ہے، سرکاری ملازمین سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ خواتین کے احترام اور انسانی وقار کو ملحوظ رکھیں۔ گھر کی چار دیواری کسی شخص کو تشدد کے الزام سے مستثنیٰ نہیں بناتی۔
سپریم کورٹ نے اہلیہ کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم جواد عباسی کی لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا برقرار رکھتے ہوئے ان کی درخواست خارج کر دی۔ جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار انٹیلی جنس بیورو میں باورچی کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس کے خلاف اپنی اہلیہ کو آگ لگانے کے الزام میں مقدمہ درج ہونے پر محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔ ان پر بدتمیزی، غصے میں رہنے، غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور محکمے کی ساکھ متاثر کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔محکمانہ انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر مجاز اتھارٹی نے 14 جون 2024 کو انہیں لازمی ریٹائر کرنے کی سزا دی تھی، جسے وفاقی سروس ٹربیونل نے بھی برقرار رکھا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ میاں بیوی کا نجی معاملہ تھا اور درخواست گزار فوجداری مقدمے میں بری ہو چکا ہے، جہاں عدالت نے اہلیہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے مؤقف کو تسلیم کیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فوجداری اور محکمانہ کارروائیوں کے مقاصد اور معیارِ ثبوت مختلف ہوتے ہیں۔ فوجداری مقدمے میں جرم شک سے بالاتر ثابت کرنا ضروری ہےجبکہ محکمانہ کارروائی میں متعلقہ شواہد کی بنیاد پر ملازم کے طرزِ عمل اور ملازمت کے لیے موزونیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی کو خودبخود ختم نہیں کرتی۔فیصلے کے مطابق محکمانہ انکوائری افسر نے درخواست گزار کی موجودگی میں 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور انہیں جرح کا موقع دیا۔ انکوائری میں اہلیہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے مؤقف کو شواہد سے ثابت نہ ہونے پر مسترد کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ محکمانہ کارروائی محض ایف آئی آر کی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ آزادانہ شواہد کی روشنی میں الزامات ثابت ہوئے۔ صرف ایف آئی آر میں نامزدگی کسی سرکاری ملازم کو سزا دینے کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار کو چارج شیٹ، تحریری جواب، گواہوں پر جرح اور انکوائری رپورٹ حاصل کرنے سمیت دفاع کے تمام قانونی مواقع فراہم کیے گئے، اس لیے محکمانہ کارروائی میں انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس بیورو جیسے حساس ادارے میں ملازمین کا قابلِ اعتماد، ذمہ دار اور باکردار ہونا ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سنگین بدسلوکی کے ثابت ہونے پر درخواست گزار کی ادارے میں مزید تعیناتی نامناسب قرار دینا مجاز اتھارٹی کا معقول فیصلہ تھا۔








