ملائیشیا نے ملک کو درپیش ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینے کی غرض سے حکومتی محکموں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملائیشیا کا سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
کوالالمپور ۔3نومبر (اے پی پی):ملائیشیا نے ملک کو درپیش ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینے کی غرض سے حکومتی محکموں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے منگل کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے چیف سیکرٹری اور مرکزی بینک کے گورنر الگ الگ اجلاسوں میں سرکاری محکموں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ ملک کو ممکنہ سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے یہ بیان یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان کی جانب سے اپنے شہریوں کو خوراک کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایات کے تناظر میں دیا۔ ان ممالک میں سائبر حملوں کے باعث یورپ اور مغربی دنیا کے مختلف حصوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، بشمول انتظامی نظام، متاثر ہوئے ہیں۔انور ابراہیم نے کہا کہ حکومت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، یمن اور بحیرہ احمر کی صورتحال اور یورپ میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات سمیت عالمی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
بیرون ملک پیدا ہونے والے بحران بھی عوام کے تحفظ، ملکی معاشی استحکام اور قومی مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملائیشیا کی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے، جس میں دستیاب حفاظتی طریقہ کار، وزارتوں، متعلقہ اداروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان رابطہ کاری اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملکی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔







