حکومت کا سرکاری گاڑیوں کو مرحلہ وار الیکٹرک گاڑیوں سے تبدیل کرنے کا منصوبہ

حکومت نے وفاقی اور صوبائی اداروں کی سرکاری گاڑیوں کو بتدریج الیکٹرک اور کم آلودگی پیدا کرنے والی دیگر گاڑیوں سے تبدیل کرنے کے لئے گرین گورنمنٹ فلیٹ منصوبہ تیار کیا ہے جس کا مقصد روایتی ایندھن کی کھپت، گاڑیوں کے استعمال سے نقصان دہ گیسوں کے اخراج اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):حکومت نے وفاقی اور صوبائی اداروں کی سرکاری گاڑیوں کو بتدریج الیکٹرک اور کم آلودگی پیدا کرنے والی دیگر گاڑیوں سے تبدیل کرنے کے لئے گرین گورنمنٹ فلیٹ منصوبہ تیار کیا ہے جس کا مقصد روایتی ایندھن کی کھپت، گاڑیوں کے استعمال سے نقصان دہ گیسوں کے اخراج اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری گاڑیوں سے کاربن کے اخراج میں بتدریج کمی کے لئے ایک ایسا قابل توسیع نظام قائم کرنا ہے جس کے ذریعے صاف نقل و حمل کے فروغ میں سرکاری شعبے کے قائدانہ کردار کو بھی اجاگر کیا جا سکے۔مجوزہ طریقہ کار کے تحت حکومت سب سے پہلے سرکاری گاڑیوں کی جامع فہرست تیار کرے گی جس میں گاڑیوں کی اقسام، عمر، طے کردہ فاصلہ، ایندھن کی کھپت اور نقصان دہ گیسوں کے اخراج کی تفصیلات شامل ہوں گی تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے ابتدائی اعدادوشمار مرتب کئے جا سکیں۔اس جائزے کے ذریعے ان گاڑیوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی جنہیں الیکٹرک یا کم آلودگی پیدا کرنے والی دیگر گاڑیوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے جبکہ مرحلہ وار عملدرآمد کے لئے ترجیحی سرکاری محکموں کا تعین بھی کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت الیکٹرک گاڑیوں اور صاف توانائی سے چلنے والی دیگر موزوں گاڑیوں کی خریداری اور استعمال کے ساتھ سرکاری دفاتر، گاڑیوں کے ڈپو اور ترجیحی سرکاری مراکز میں چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ نصب کرنے کی تجویز ہے۔گاڑیوں کی تبدیلی سے متعلق فیصلوں میں ماحول دوست خریداری کے معیارات اور گاڑیوں کی پوری قابل استعمال مدت کے دوران آنے والے اخراجات کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ موزوں گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا جا سکے۔مجوزہ منصوبے میں گاڑیوں کے استعمال، توانائی اور ایندھن کی کھپت، دیکھ بھال کی ضروریات اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ہونے والی کمی کی نگرانی کے لئے ڈیجیٹل فلیٹ مانیٹرنگ سسٹم بھی شامل ہے۔اس تبدیلی کے عمل میں معاونت اور عملی صلاحیت بہتر بنانے کے لئے سرکاری گاڑیوں کے انتظامی افسران، ڈرائیوروں اور دیکھ بھال کے عملے کے لئے تربیتی پروگرام بھی تجویز کئے گئے ہیں۔

وفاقی حکومت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے ذریعے پالیسی کی سمت متعین کرے گی، ترجیحی محکموں اور گاڑیوں کی نشاندہی کرے گی اور ادارہ جاتی انتظامات میں رابطہ کاری کی ذمہ داری انجام دے گی۔سرکاری ادارے گاڑیوں کی تعیناتی، ان کے استعمال سے متعلق اعدادوشمار اور گاڑیوں کے مجموعی انتظام کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ خریداری اور فلیٹ مینجمنٹ سے متعلق ادارے ماحول دوست خریداری کے معیارات اور گاڑیوں کی تبدیلی کی منصوبہ بندی میں معاونت فراہم کریں گے۔بجلی کے شعبے اور تقسیم کار ادارے چارجنگ کے لئے بجلی کے کنکشن اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں سہولت فراہم کریں گے۔

گاڑیوں اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کے سپلائرز آلات، تکنیکی معاونت اور دیکھ بھال کی خدمات فراہم کریں گے۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ادارے منصوبے کو نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے قومی اہداف سے ہم آہنگ کرنے اور اس کے ماحولیاتی فوائد کی نگرانی میں معاونت کریں گے۔مجوزہ طریقہ کار میں چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، صاف توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مرحلہ وار خریداری اور تعیناتی، چارجنگ کی سہولیات کو فعال بنانے، عملی نگرانی اور تربیت کے انتظامات بھی شامل ہیں۔منصوبے کی کارکردگی کی تصدیق کے لئے ایندھن کی کھپت، گاڑیوں کے آپریشنل اخراجات اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ہونے والی کمی کا جائزہ لیا جائے گا۔

مزید خبریں