نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے سکول آف مکینیکل اینڈ مینوفیکچرنگ انجینئرنگ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ڈویلپمنٹ سنرجیز انٹرنیشنل کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور ان کے لیے پیشگی تیاری کے موضوع پر مشترکہ تحقیقی مضمون شائع کیا ہے۔نسٹ کے مطابق مذکورہ مضمون عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے کے طبی تحقیقی جریدے …
نسٹ ، اے آئی کے ذریعے صحت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور پیشگی تیاری کے موضوع پر مشترکہ تحقیقی مضمون شائع

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے سکول آف مکینیکل اینڈ مینوفیکچرنگ انجینئرنگ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ڈویلپمنٹ سنرجیز انٹرنیشنل کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور ان کے لیے پیشگی تیاری کے موضوع پر مشترکہ تحقیقی مضمون شائع کیا ہے۔نسٹ کے مطابق مذکورہ مضمون عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے کے طبی تحقیقی جریدے ’’ایسٹرن میڈیٹیرینین ہیلتھ جرنل‘‘ میں شائع ہوا ہے۔
’’پیچیدہ حالات میں صحت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور ردعمل کے لیے مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیتوں سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مضمون میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے موثر استعمال، ہنگامی صورتحال سے قبل تیاری اور بحرانوں کے دوران بروقت ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس مشترکہ علمی کاوش میں نسٹ کے پروفیسر ڈاکٹر طارق، عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر تھامس مولٹ، ڈویلپمنٹ سنرجیز انٹرنیشنل کے زبرین عامر اکرام اور عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے سے وابستہ ڈاکٹر مونا البربری نے حصہ لیا۔ یہ اشاعت صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بین الاقوامی تحقیقی تعاون اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی افادیت اجاگر کرنے میں نسٹ کی علمی کاوشوں کی عکاس ہے۔







