وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے مالی نظم و ضبط، شفافیت اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لئےتاریخ میں پہلی بار پاکستان ریلوے کے مالیاتی گوشواروں کا بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیارات کے تحت آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور سے جاری تفصیلات کے مطابق مالی سال 26-2025 کے لیے عالمی شہرت یافتہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں …
پاکستان ریلوے میں شفافیت کے فروغ کے لیے تاریخ میں پہلی بار مالیاتی گوشواروں کا بین الاقوامی معیار کے تحت آڈٹ کرانے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے مالی نظم و ضبط، شفافیت اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لئےتاریخ میں پہلی بار پاکستان ریلوے کے مالیاتی گوشواروں کا بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیارات کے تحت آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور سے جاری تفصیلات کے مطابق مالی سال 26-2025 کے لیے عالمی شہرت یافتہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
اس عمل کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی رکھنے کے لیے آڈٹ فرم کا انتخاب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے قوانین کے عین مطابق کیا جائے گا جبکہ پروکیورمنٹ کا تمام عمل جدید ای پیڈز (EPADS) پورٹل کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ای) کے ایکٹ 2023 کے تحت پاکستان ریلوے میں مالیاتی کنٹرول، احتساب اور شفافیت کے نظام کو مزید فعال اور مضبوط بنانا ہے۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے واضح کیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے اور ریلوے فنڈز کے ایک ایک روپے کا کڑا حساب لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ادارے میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور موصول ہونے والی آزاد آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں سخت اور اصولی فیصلے کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر نےکہا کہ وزیراعظم پاکستان خود ریلوے کے معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں اور موجودہ قیادت کے وژن کے تحت تمام ضروری اقدامات بروئے کار لا کر پاکستان ریلوے کو مالیاتی طور پر مکمل خود مختار اور مستحکم ادارہ بنایا جائے گا۔








