نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام ’’ڈیکس وژن‘‘ ٹشو نمونوں کو ورچوئل طریقے سے رنگنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جس سے طبی تشخیص کے عمل میں وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہو گئی ہے۔نسٹ کے تیار کردہ اس جدید نظام کے ذریعے ٹشو نمونوں کی پروسیسنگ کا وقت 30 سے 40 فیصد تک کم کیا جا سکتا …
نسٹ کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام ’’ڈیکس وژن‘‘ سے طبی تشخیص کے عمل میں وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہو گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام ’’ڈیکس وژن‘‘ ٹشو نمونوں کو ورچوئل طریقے سے رنگنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جس سے طبی تشخیص کے عمل میں وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہو گئی ہے۔نسٹ کے تیار کردہ اس جدید نظام کے ذریعے ٹشو نمونوں کی پروسیسنگ کا وقت 30 سے 40 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے جبکہ پروسیسنگ کے اخراجات میں 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
یہ نظام مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹشو نمونوں کو روایتی رنگائی کے عمل کے بغیر ورچوئل طور پر رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے پیتھالوجی لیبارٹریوں میں تشخیصی عمل زیادہ تیز، موثر اور کم خرچ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈیکس وژن کو سبسکرپشن ماڈل کے تحت متعارف کرایا گیا ہے تاکہ جدید طبی تشخیصی سہولیات کو کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ افراد اور اداروں تک قابل رسائی بنایا جا سکے۔نسٹ کے مطابق یہ جدت طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے موثر استعمال اور جدید تحقیقی ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔







