قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے مسلسل ناقص معیار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے کمیٹی کی مسلسل کوششوں کے باوجود سروسز کے معیار میں مطلوبہ بہتری نہیں آ سکی۔قائمہ کمیٹی کا 25واں اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم نمبر 7 میں چیئرمین سید امین الحق کی زیر …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے ناقص معیار پر تشویش کا اظہار، چیئرمین پی ٹی اے کی بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے مسلسل ناقص معیار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے کمیٹی کی مسلسل کوششوں کے باوجود سروسز کے معیار میں مطلوبہ بہتری نہیں آ سکی۔قائمہ کمیٹی کا 25واں اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم نمبر 7 میں چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ متعدد اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز انتہائی غیر تسلی بخش ہیں جبکہ کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی صارفین کو کنیکٹیویٹی اور سروس کے معیار کے مسائل درپیش ہیں۔ کمیٹی نے خاص طور پر واٹس ایپ کالز کے دوران بار بار سگنلز ڈراپ ہونے کے مسئلے کو اٹھایا اور کہا کہ چھوٹے شہروں اور دور دراز کے اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی اے نے مختلف علاقوں میں سروے کے ذریعے خرابیوں کی نشاندہی کی ہے اور ٹیلی کام آپریٹرز کو معیار بہتر بنانے کے لیے آن بورڈ لیا گیا ہے، جہاں بھی خامیاں پائی گئیں، متعلقہ آپریٹرز کو تین ماہ کے اندر کوالٹی آف سروس بہتر بنانے کی ہدایات دی گئیں۔ بعد ازاں ہونے والے سروے میں جن آپریٹرز نے معیار بہتر نہیں کیا، انہیں شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو 5 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں تاہم عائد کردہ جرمانوں کی وصولی کا عمل التوا کا شکار ہے کیونکہ متعلقہ آپریٹرز نے عدالتوں سے رجوع کر کے حکم امتناعی (سٹے آرڈرز) حاصل کر رکھے ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے ٹیلی کام سروسز کے معیار میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ طویل لوڈ شیڈنگ کو بھی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ٹیلی کام ٹاورز کی فعالیت بری طرح متاثر ہوتی ہے جس سے صارفین کا انٹرنیٹ رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے انہوں نے آگاہ کیا کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کے بعد نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن پر تیزی سے کام جاری ہے۔ کراچی میں تقریباً 70 فیصد فائیو جی سروسز شروع کی جا چکی ہیں جبکہ ملک بھر میں تقریباً 2300 ٹیلی کام ٹاورز کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے لیس کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انفراسٹرکچر اور سپیکٹرم کے مسائل حل ہونے سے طویل مدت میں سروسز کے مجموعی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، احمد عتیق انور، عمار احمد خان لغاری، سید علی قاسم گیلانی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی، آسیہ اسحاق صدیقی اور پلین بلوچ سمیت وزارت اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔







