وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت اجلاس، 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ادویات پر ٹو ڈی بارکوڈ کے نفاذ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ ل لیا گیا

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ادویات پر ٹو ڈی بارکوڈ کے نفاذ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سی ای او ڈریپ سمیت متعلقہ اداروں کے حکام اور تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ادویات پر ٹو ڈی بارکوڈ کے نفاذ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سی ای او ڈریپ سمیت متعلقہ اداروں کے حکام اور تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 80 فیصد فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اپنی ادویات پر ٹو ڈی بارکوڈ کے نفاذ کا عمل شروع کر دیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ادویات کا مطلوبہ ڈیٹا جمع نہ کروانے والی کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

مقررہ مہلت کے باوجود احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ادویات کا ڈیٹا جمع نہ کروانے والی کمپنیوں کے پیداواری یونٹس سیل کر دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے ٹو ڈی بارکوڈ کے نفاذ کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

وفاقی وزیر صحت نے تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ تقاضوں کے مطابق اپنا سیریلائزیشن ڈیٹا ہر صورت ڈریپ کو جمع کروائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹو ڈی بارکوڈ کے نظام کا مقصد ادویات کی موثر نگرانی، شفافیت اور ٹریک اینڈ ٹریس کے نظام کو یقینی بنانا ہے تاکہ جعلی ادویات کی روک تھام اور عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

 

مزید خبریں